صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 718 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 718

صحيح البخاري - جلد ٣ LIA ٣٣- كتاب الاعتكاف الْمَسَاجِدِ سے استدلال کیا ہے کہ عدم مباشرت کو اعتکاف کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ روزوں کے لئے یہ فرمایا کہ رات تک انہیں پورا کرو۔گویا اس آیت میں اُن کے نزدیک ایسی کوئی تصریح نہیں کہ روزہ اور اعتکاف کے درمیان تلازم ہے۔اُن کا یہ استدلال بھی کمزور ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۳۴۹ شرح باب ۵۔نیز عمدۃ القاری جزءا اصفحه ۴۶ اشرح باب ۵) غالباً یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس بارہ میں اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کی بلکہ اس باب کے بعد ایک اور باب قائم کر کے حضرت عمر کے اعتکاف کی صورت بتائی ہے کہ وہ ایک نذر تھی۔بَاب ١٦ : إِذَا نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ أَسْلَمَ جب کوئی جاہلیت میں نذر مانے کہ اعتکاف بیٹھے گا۔پھر وہ مسلمان ہو جائے ٢٠٤٣ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۰۴۳ عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ سے، نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے عَنْهُ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ أُرَاهُ قَالَ لَيْلَةً میں منت مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھیں فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْفِ بِنَدْرِكَ۔گے۔روای کہتا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک رات کے لئے کہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔اطرافه ،۲۰۳۲ ۲۰۱۲، ٣١٤٤، ٤٣٢٠، ٦٦٩٧۔تشریح : إِذَا نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ أَسْلَمَ: فقہاء میں سے ایک فریق کی قلعی رائے ہے کہ زمانہ جاہلیت کی نذر جو خلاف شریعت نہ ہو وہ ضرور پوری کی جائے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب النذور باب ۲۹ روایت نمبر ۷ ۶۶۹۔یہاں یہ باب ایک اختلاف کے حل کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔بعض نے حضرت عمر کے مذکورہ بالا سوال سے متعلق یہ قیاس کیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس وقت پو چھا تھا کہ جب یہ تصریح نہیں ہوئی تھی کہ رات کو روزہ نہیں ہوتا۔یہ قیاس درست نہیں کیونکہ مذکورہ بالا واقعہ جعرانہ مقام پر ہوا تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے کوٹے تھے اور یہ غزوہ رمضان کے احکام نازل ہونے کے بعد ہوا تھا۔بعض کا خیال ہے کہ جاہلیت سے مراد فتح مکہ سے پہلے کا زمانہ ہے۔یہ دونوں خیال درست نہیں اور اس قسم کے خیالات کا رڈ کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جلد ۳ صفہ ۳۸ شرح باب ۵) (عمدۃ القاری جزءا اصح ۶ ۱۴ اشرح باب ۵) صفحه