صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 711 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 711

صحيح البخاری جلد ۳ ۷۱۱ ۳۳- كتاب الاعتكاف النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور الْمَسْجِدِ وَعِنْدَهُ أَزْوَاجُهُ فَرُحْنَ فَقَالَ آپ کے پاس آپ کی ازواج تھیں ۔ وہ جانے لگیں لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَةٍ لَا تَعْجَلِي حَتَّی تو آپ نے حضرت صفیہ بنت حی سے کہا: جلدی نہ أَنْصَرِفَ مَعَكِ وَكَانَ بَيْتُهَا فِي دَارِ کریں ( ٹھہریں) کہ میں آپ کے ساتھ چلوں گا أُسَامَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اُن کی قیام گاہ حضرت اسامہ کی حویلی میں تھی ۔ وَسَلَّمَ مَعَهَا فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے اور انصار فَنَظَرَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سے دو اشخاص آپ سے ملے اور اُن دونوں نے ثُمَّ أَجَازَا فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ في صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر اُٹھا کر دیکھا۔ پھر وہ دونوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَيَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ آگے نکل گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حُيَةٍ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ سے کہا: ادھر آئیں۔ یہ صفیہ بنت حی ہیں۔ اُن قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ دونوں نے کہا: سبحان اللہ یا رسول اللہ! آپ نے مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيْتُ أَنْ يُلْقِيَ فرمایا: شیطان انسان میں یوں گردش کرتا ہے جیسے فِي أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا ۔ خون اور مجھے اندیشہ ہوا مبادا شیطان تمہارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔ اطرافه: ۲۰۳۵، ۲۰۳۹، ۳۱۰۱، ۳۲۸۱، ۲۱۹، ۷۱۷۱ ---- قبل میں تشريح : زِيَارَةُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي اعْتِكَافِهِ: روایت زیر باب اس سے جل باب ۸ روایت نمبر ۲۰۳۵ گذر چکی ہے۔ آیت لَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَانْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ۔ (البقرۃ:۱۸۸) کے پیش نظر مباشرت کی وہ صورت بتائی گئی ہے جو بحالت اعتکاف جائز ہے۔ یعنی بیوی کا اپنے خاوند کی مزاج پرسی اور دیکھ بھال کے لئے اُس سے ملاقات کرنا ۔ اعتکاف اگر چہ دنیا سے کنارہ کشی ہے مگر ایسے قطع تعلق کا نام نہیں جس میں انسان ضروریات معیشت و معاشرت سے کلیه دست بردار ہو جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی غرض سے آپ کی بیویاں دن کو بھی آتیں اور رات کو بھی۔ اُن میں سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر دُور تھا۔ آپ نے انہیں انتظار کرنے کے لئے فرمایا۔ تا وہ تنہا اپنے گھر کو نہ جائیں۔ کچھ فاصلہ تک انہیں چھوڑنے کے لئے آپ اُن کے ساتھ گئے۔ زیر باب روایت جو بسند عبد الرحمن بن خالد ابن شہاب زہری سے موصولاً مروی ہے، وہ بسند ہشام بن یوسف