صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 707
صحيح البخاري - جلد ٣ 4۔4 ٣٣- كتاب الاعتكاف وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُوْلِ حضرت صفیہ نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي علیہ وسلم کی ملاقات کی غرض سے آپ کے پاس اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ آئیں۔آپ اُس وقت مسجد میں اعتکاف فرما تھے، الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ جو رمضان کے آخری عشرہ میں تھا۔بی بی صفیہ نے سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ النَّبِيُّ کچھ وقت آپ کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں کیں۔پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا جب اُٹھ کر واپس جانے لگیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بھی اُن کو گھر تک پہنچانے کے لئے کھڑے ہو گئے۔بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ جب حضرت صفیہ مسجد کے دروزے پر اُس جگہ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پہنچیں جہاں حضرت ام سلمہ کا دروازہ ہے تو انصار وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ میں سے دو شخص گزرے۔انہوں نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صلى الله علیہ وسلم کو اسلام علیکم کہا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَنٍ فَقَالَا سُبْحَانَ اللهِ يَا اُن دونوں سے فرمایا: ذرا ٹھہر جائیں۔یہ صفیہ بنت رَسُوْلَ اللهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ تي ہیں تو اُن دونوں نے کہا: سبحان اللہ یا رسول اللہ ! صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ اور اُن دونوں پر شاق گزرا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے يَبْلُغُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي فرمايا: شیطان انسان میں وہاں تک پہنچتا ہے جہاں خَشِيْتُ أَنْ يُقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا خون پہنچتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا تمہارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔۔اطرافه: ۲۰۳۸، ۲۰۳۹، ۳۱۰۱، ۳۲۸۱، ۹۲۱۹، ۷۱۷۱۔تشریح : اس تعلق میں تشریح باب الروایت نمبر ۲۰۳۸ د یکھئے۔۲۰۳۸دیکھئے۔جد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ "الإنسان" ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۳۵۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔