صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 688
صحيح البخاری جلد۳ الْأَوَاخِرِ YAA ۳۲- کتاب فضل ليلة القدر فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ کہ تمہاری خواہیں آخری سات راتوں کے متعلق السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا ایک دوسرے سے متفق ہیں۔پس جس کو اس کی تلاش ہو تو چاہیے کہ وہ آخری سات راتوں میں فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ۔تلاش کرے۔اطرافه: ۱۱٥۸، ٦۹۹۱۔٢٠١٦: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۲۰۱٦ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہمیں بتایا۔انہوں نے سجي ( بن ابی کثیر ) سے سجی نے قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَكَانَ لِي صَدِيقًا ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت فَقَالَ اعْتَكَفْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوسعید خدری) سے پوچھا اور وہ میرے دوست تھے تو وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم رمضان کے فَخَرَجَ صَيْحَةَ عِشْرِيْنَ فَخَطَبَنَا وَ قَالَ درمیانی عشرہ (دہا کہ ) میں اعتکاف بیٹھے۔پھر بیسویں إِنِّي أُرِيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيْتُهَا أَوْ روزے کی صبح کو آپ ( اعتکاف سے) نکلے اور ہمیں مخاطب ) کیا اور فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھلائی گئی ، پھر بھلا دی گئی۔نُسِيْتُهَا فَالْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ راوی کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انسيتها کا لفظ استعمال الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فرمایا بانسيتها کا) سوتم آخری عشرے کی طاق رات میں أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِيْنٍ فَمَنْ كَانَ اسے تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ فَرَجَعْنَا وَمَا سجدہ کر رہا ہوں۔پس جس نے اللہ کے رسول ﷺ کے نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ ساتھ اعتکاف کیا ہو تو وہ کوٹ آئے۔چنانچہ ہم کوٹے فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ اور آسمان میں ہم ابر کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وَكَانَ مِنْ جَرِيْدِ النَّخْلِ وَأُقِيِّمَتِ اتنے میں ابر آیا اور برسنے لگا۔اتنا برسا کہ مسجد کی چھت الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله بہنے لگی اور وہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّيْنِ کے لیے تکبیر کہی گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ مَعَ رَسُولِ اللہ کے الفاظ ہیں (فتح الباری جز پہ حاشیہ صفحہ ۳۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔