صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 686 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 686

صحيح البخاری جلد۳ YAY ۳۲ - کتاب فضل ليلة القدر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا کی۔آپ نے فرمایا کہ جو بجذ بہ ایمان رضاء الہی کی تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ غرض سے ماہ رمضان میں روزے رکھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ اور جولیلۃ القدر میں جوش ایمان میں رضاء الہی کی ذَنْبِهِ۔تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ الزُّهْرِيِّ۔عَن غرض سے رات کو اُٹھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی۔سفیان کی طرح سلیمان بن کثیر نے بھی زہری سے روایت کی۔اطرافه ،۳۵ ۳۷ ۳۸ ۱۹۰۱، ۲۰۰۸، ۲۰۰۹ تشریح : فَضْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ليلة القدر فضیلت کے تعلق میںجس آیت کا حوالہ دیا گیاہے وہ اپنے منہم اور - مطالب میں بہت وسیع ہے۔علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے لیلۃ القدر کے معنی علاوہ قضا و قدر کے قدر و منزلت اور عظمت کے بھی کئے ہیں۔اُن کے یہ الفاظ ہیں: سُمِّيَتْ بِذَالِكَ لِخَطَرِهَا وَشَرُفِهَا۔یعنی اس کو لیلۃ القدر اس کی عظمت اور شرف کی وجہ سے کہا گیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۱۲۸) قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَا كَانَ فِي الْقُرْآن : سفیان بن عیینہ کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ محمد بن سکی ابن ابی عمر و نے کتاب الایمان میں موصولاً نقل کیا ہے۔(فتح الباری جز یہ صفحہ۳۲۴) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے مدنظر جہاں قیام رمضان کی فضیلت ہے وہاں بہت سی روایات کی چھان بین بھی ہے جو لیلۃ القدر کی خاص گھڑی کے بارہ میں زبان زد عام ہیں۔امام ابن حجر نے اس بارہ میں چھیالیس اقوال درج کرنے کے بعد ابن عربی کی رائے ان الفاظ میں نقل کی ہے: أَنَّهَا لَا تُعْلَمُ یعنی اُس گھڑی کا علم نہیں دیا جاتا۔علامہ نووی نے اُن کی یہ رائے تسلیم نہیں کی کیونکہ اگر اُس گھڑی کا علم نہ ہوسکتا تو پھر تلاش کرنے کی تلقین کیوں فرمائی جاتی ؟ ( فتح الباری شرح باب ۳ - جز ۴۶ صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۸) جو نعمت جس قدر عظیم الشان ہو اُسی قدر جد و جہد اس کے حصول کے لئے درکار ہوتی ہے۔عنوان باب میں مذکورہ بالا حوالہ اسی قسم کے اختلاف کے پیش نظر دیا گیا ہے۔آیت محولہ بالا میں لیلۃ القدر بعثت نبوی اور نزول قرآن کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔بعثت نبوی کا زمانہ بلحاظ ظلمت جہالت اور ضلالت رات کے مشابہ ہے اور بلحاظ انور عرفان اور ہدایت طلوع فجر سے مشابہ ہے۔اس لئے زمانہ بعثت نبویہ تمام زمانوں سے ممتاز ہے اور وہ تقدیر الہی جو انسان کی روحانی پیدائش سے متعلق ہے اسی زمانہ سے مخصوص ہے۔صفاتِ باری تعالیٰ کی تجلی خارق عادت طور پر اس زمانہ میں نمایاں ہوئی۔رمضان کے مہینے میں اسلام کی ہدایت کے مطابق مجاہدہ کرے تو یہ مبارک گھڑی اسے نصیب ہو سکتی ہے۔