صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 685 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 685

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۸۵ بدالله الحالي ۳۲- کتاب فضل ليلة القدر ٣٢- كِتَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْر بَاب ۱ : فَضْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ لیلۃ القدر کی فضیلت ار مہینے سے وَقَالَ اللهُ تَعَالَى : اِنَّا اَنْزَلْنَهُ في اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہم نے اس قرآن کو لیلتہ القدر لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا اَدْريكَ مَا میں نازل کیا ہے اور اسے مخاطب ! تجھے کیا معلوم ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ کہ لیلۃ القدر کیا شے ہے؟ لیلۃ القدر مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَيْكَةُ بہتر ہے۔اس میں ملائکہ اور روح اپنے رب کے حکم وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ سے ہر امر لے کر اترتے ہیں۔(پھر فرشتوں کے كُلِّ اَمْرِفُ سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَع اترنے کے بعد تو ) سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے اور یہ حال صبح کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔الْفَجْرِ (القدر : ٢-٦) قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ: وَمَا ابن عیینہ (سفیان ) نے کہا: قرآن میں جہاں کہیں ادريكَ فَقَدْ أَعْلَمَهُ وَمَا قَالَ: وَمَا وَمَا ادرک کا لفظ آیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اُس کا يُدْرِيكَ (الاحزاب: ٦٤) فَإِنَّهُ لَمْ يُعْلِمَ علم آپ کو دے دیا ہے اور جہاں فرمایا ہے: وما يُذرِیک تو اُس کا علم نہیں دیا۔٢٠١٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۲۰۱۴: علی بن عبد اللہ مدینی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ وَأَيَّمَا که سفیان بن مینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: یہ بات ہمیں حِفْظِ مِنَ الزُّهْرِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ یاد ہے یعنی زہری سے سن کر انہوں نے یادرکھا۔زہری أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ نے ابو سلمہ سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ