صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 683 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 683

صحيح البخاري - جلد۳ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي۔اطرافة: ١١٤٧، ٣٥٦٩ YAM ۳۱- كتاب صلاة التراويح میری آنکھیں تو سوتی ہیں اور میرا دل نہیں ہوتا۔تشریح : فَضْلُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ : اس باب کے تحت چھ روایتیں درج ہیں۔پہلی روایت میں مطلق قیام کا ذکر ہے۔دوسری میں بھی صرف قیام رمضان ہی ہے۔یہ دونوں روایتیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہیں جوز ہری بن شہاب سے مروی ہیں۔یہ روایتیں نقل کرنے کے بعد ابن شہاب ہی کی روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگوں کا یہ حال تھا کہ لوگ اکیلے اکیلے نفل نماز پڑھتے۔اُن کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے رات کے پہلے حصے میں باجماعت نماز پڑھانے کا انتظام کیا جواب تراویح کے نام سے مشہور ہے۔باقی تین روایات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں۔پانچویں روایت میں بایں الفاظ تصریح ہے: لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو مسجد میں آئے اور نماز تہجد پڑھی اور لوگوں نے بھی اقتداء میں پڑھی۔اس طرح حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں جو ابہام تھا اُس کی وضاحت کی گئی ہے کہ قیام رمضان سے مراد صلوۃ اللیل ہے۔یہاں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوانِ باب میں رات کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف الفاظ منْ قَامَ رَمَضَانَ پر اکتفاء کیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ قیام رمضان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ سے باسناد متعد دروایتیں منقول ہیں۔( دیکھئے روایت نمبر ۳۷، ۲۰۰۸، ۲۰۰۹) ان سب روایتوں میں قَامَ رَمَضَانَ کے الفاظ ہی مروی ہیں اور لفظ قیام جب بھی رات کے ساتھ استعمال ہوا ہے اُس سے مراد ہر جگہ نماز تہجد ہی ہے۔اس تعلق میں روایت نمبر ۱۱۲۱، ۱۱۳۵، ۱۱۴۶،۱۱۳۷ بھی دیکھئے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے رمضان کی فضیلت کے تعلق میں لفظ قیام کی طرف توجہ مبذول کرانے کی غرض سے نیل کا لفظ حذف کر دیا ہے جو روایات مندرجہ سے ظاہر ہے۔قیام لیل کا محاورہ جب بھی استعمال ہوا ہے اس سے مراد تہجد ہی کے لئے اُٹھنا ہے۔روزانہ تہجد پڑھنے کی فضیلت اپنی جگہ پر ہے مگر رمضان میں روزہ کی فضیلت اسی صورت میں متحقق ہوگی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیا جائے۔رمضان کے شب و روز ہی عبادت اور ذکر الہی میں گزریں تا روزہ دار کو موعود لیلتہ القدر نصیب ہو اور رمضان کی عبادت محض رسما نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ عنوان باب میں سارے رمضان کو قیام کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور اس کے معا بعد فضیلات لیلتہ القدر کا بیان ہے۔الفاظ وَالَّتِي يَنَامُوْنَ عَنْهَا اَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جاری کردہ طریق لوگوں کی غفلت کے اندیشے سے تھا اور یہ فعل کسی فضیلت کا مستحق نہیں ہو سکتا جب تک کہ قیام رمضان اس طریق پر نہ ہو جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے۔غرض دونوں ابواب کے عنوان اور ترتیب سے اس اہم امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔