صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 682
صحيح البخاری جلد۳ ۶۸۲ ۳۱ - كتاب صلاة التراويح اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ جب چوتھی رات ہوئی تو ( لوگوں کا اس قدر نبوہ ہوا) حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى که نمازی مسجد میں سمانہ سکے۔( مگر اُس رات آپ الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ نماز تراویح کے لئے نہ نکلے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ جب آپ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور فجر کی نماز پڑھا وَلَكِنِّي خَشِيْتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ ہے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تشہد پڑھا۔پھر اُس کے بعد فرمایا: تمہاری موجودگی مجھ سے پوشیدہ نہ فَتَعْجِزُوْا عَنْهَا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى تھی لیکن میں ڈرا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ۔تم اس کی ادائیگی میں عاجز آ جاؤ۔چنانچہ رسول اللہ نے وفات پائی اور پہلا دستور ہی رہا۔اطرافه ،۷۲۹، ۷۳۰، ۹۲۶، ۱۱۲۹، ۲۰۱۱، ۵۸۶۱ ۲۰۱۳: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۲۰۱۳: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سَعِيْدِ الْمَقْبُرِي عَنْ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے سعید مقبری أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ سے سعید نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ صَلَاةُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیسی تھی ؟ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ تو انہوں نے کہا کہ آپ رمضان میں اور غیر رمضان فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى میں گیارہ رکعت نماز سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔چار عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ رکعتیں پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا پوچھ۔پھر چار رکعت پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ کے متعلق نہ پوچھ۔پھر تین رکعتیں پڑھتے۔میں نے يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَتَنَامُ ایک بار آپ سے ) عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: عائشہ !