صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 677
صحيح البخاری جلد ۳ ५८८ ٣٠ - كتاب الصوم يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ کچھ نہ کھایا ہو تو چاہیے کہ وہ بھی روزہ رکھے کیونکہ آج عَاشُوْرَاءَ۔ اطرافة: ١٩٢٤، ٧٢٦٥ عاشورہ کا دن ہے۔ تشریح : صِيَامُ يَوْمٍ عَاشُورَ آءَ: عاشورہ کے روزہ کی مشروعیت اور وہ تسمیہ کے بارے میں دیکھئے باب نمبرا جہاں بتایا گیا ہے کہ رمضان فرض ہونے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موسوی شریعت کے مطابق یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ یہاں چونکہ نفلی روزوں کا بیان ہے ؛ اس لئے صیام رمضان کے احکام نازل ہونے کے بعد اس روزے کی مشروعیت و وجوب قائم نہ رہا بلکہ منسوخ ہو گیا۔ البتہ اس کی حیثیت بطور نفلی روزوں کے ہوگئی ۔ اس تعلق میں مذکورہ بالا باب قائم کر کے اس کا اعادہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اب یہ روزہ نفلاً رکھا جا سکتا ہے۔ اس باب میں آٹھ روا ہے ٹھ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آ۔ صہ یہ ہے کہ آپ نے رمضان کے بعد بھی عام کے بعد بھی عاشورہ کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دی کہ ایک عظیم الشان نشانِ الہی کی یاد تازہ رہے۔ بنی اسرائیل کو اس دن نجات دی گئی تھی۔ روایت نمبر ۲۰۰۳ میں حضرت معاویہ کے تعجب کا ذکر ہے کہ لوگ یہ روزہ کیوں رکھتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیال میں عاشورہ کا روزہ مکروہ سمجھے تھے مگر انہوں نے بعد میں اپنے اس خیال کی اصلاح کی ۔ حضرت معاویہؓ نے پہلا حج ۴۴ھ میں کیا اور آخری حج ۵۷ھ میں ۔ علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ مذکورہ واقعہ آخر حج کا معلوم ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۳۱۳) شیعہ کے نزدیک بھی عاشورہ کا روزہ رکھنا جائز نہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جس ترتیب سے روایتیں درج کی ہیں اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ عاشورہ کا روزہ اُن کے نزدیک مستحب ہے۔ روایت ۲۰۰۶ میں حضرت ابن عباس کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ الله يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ ۔ لفظ تَحَرَّى اهتمام پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے معنے ہیں کسی بات کو مناسب سمجھتے ہوئے اختیار کرنا۔ چنانچہ عاشورہ سے متعلق اہتمام فریضہ رمضان کے بعد بھی قائم رہا۔ آخری روایت ۲۰۰۷؟ باب ۲۱ روایت نمبر ۱۹۲۴ میں بھی گزر چکی ہے۔ جہاں روزے کی صحت کے لئے سحری ضروری شرط قرار نہیں دی گئی بلکہ اصل شرط نیت ہے۔ عاشورہ کا دن علامہ محمود پاشاہ مصری عالم فلکیات کے رُو سے دوشنبه ۸ ربیع الاول مطابق ۲۰ ستمبر ۶۲۲ اور ۱۰ تشری ( تشرین) تھا۔ (دیکھئے تقویم العرب قبل الاسلام ) مگر مسلمانوں میں اب یہ عاشورہ کا دن مطابق دسویں محرم یا بقول حضرت ابن عباس نویں محرم کو ہوتا ہے۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ (۳۱) اس تاریخ کو بنی اسرائیل نے فرعون سے نجات پائی تھی ۔ ( روایت نمبر ۲۰۰۴) یہ تاریخ در حقیقت اندازہ ہی ہے کیونکہ اسرائیلی جنتری تین ادوار سے گزری ہے۔ اوّل عہد قدیم کا دور، جس میں سورج وچاند کی حرکت کا اندازہ مشاہدہ پر مبنی تھا اور ا پر مبنی تھا اور اسی اندازہ کے مطابق مہینوں کا شمار ہوتا ہوتا تھا۔