صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 54 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 54

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۴ ٢٤ - كتاب الزكاة الْبَيْتَ فَلَمْ يَلْبَتْ أَنْ خَرَجَ فَقُلْتُ أَوْ آگئے ۔ میں نے پوچھا یا (کہا) آپ سے پوچھا گیا قِيلَ لَهُ فَقَالَ كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تو آپ نے فرمایا: میں گھر میں صدقہ کے مال سے تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيْتَهُ سونے کی ایک ڈلی چھوڑ آیا تھا۔ میں نے پسند نہ کیا کہ وہ رات بھر میرے پاس رہے۔ اس لئے میں نے فَقَسَمْتُهُ۔ اطرافه: ٨٥١، ١٢٢١، ٦٢٧٥۔ اُسے تقسیم کر دیا۔ تشريح : مَنْ أَحَبَّ تَعْجِيلَ الصَّدَقَةِ: اس باب کا مقصد واضح ہے۔ جب میسر ہو تواس وقت صدقہ دینا پسندیدہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ اسے رکھ چھوڑے اور آج کل کرتے ہوئے موقع ہاتھ سے گنوادے۔ کیونکہ مکن ہے کہ کل کا دن اپنے ساتھ ایسی ضرورتیں لائے جو صدقہ دینے میں حائل ہوں۔ روایت نمبر ۱۴۳۰؛ کتاب الاذان روایت نمبر ۱ ۸۵ میں بھی گزر چکی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ( الانفال :۲۵) اے وہ جو مومن ہو اللہ اور اس کے رسول کی بات قبول کرو جب وہ تمہیں اس بات کی دعوت دے جو تمہیں زندہ کرے گی اور جان لو کہ اللہ ؛ انسان اور اس کے دل کے درمیان روک پیدا کر دیا کرتا ہے اور تم اس کی طرف زندہ کر کے لوٹائے جاؤ گے۔ بسا اوقات نیکی کی تحریک دل میں شدت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اگر وہ اس وقت نہ کی جائے تو پھر وہ تحریک مدحم بلکہ مردہ ہو جاتی ہے اور پھر توفیق نہیں ملتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس بارہ میں پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے صبح ہونے کا انتظار نہ فرمایا بلکہ جو گھر میں باقی تھا، اسے رات ہی میں مستحق کو بھیج دیا۔ بَاب ۲۱ : التَّحْرِيضُ عَلَى الصَّدَقَةِ وَالشَّفَاعَةُ فِيْهَا صدقے سے متعلق لوگوں کو تحریک کرنا اور سفارش کرنا ١٤٣١ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۴۳۱: مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عَدِيٌّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ( کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ( انہوں نے کہا: ) عدی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ (بن ثابت) نے ہمیں نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيْدٍ جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ سے روایت کی ۔ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ باہر آئے اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ نہ ان سے پہلے