صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 611
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۱۱ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۳۹ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۱۹۳۹ ابو معمر (عبد اللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان : عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ کیا کہ عبد الوارث (بن سعید ) نے ہمیں بتایا کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ایوب سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ۔نے پچھنے لگائے جبکہ آپ روزہ دار تھے۔اطرافه: ۱۸۳۵، ۱۹۳۸، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸، ۲۲۷۹، ٥٦۹۱، 5694، 5695، LOV۔1 (OV۔, (0799 ١٩٤٠ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۱۹۴۰ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتَا الْبُنَانِيَّ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے ثابت بنانی سے قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سنا۔انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ أَكُنتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِم قَالَ سے پوچھا گیا: کیا تم لوگ (آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ) لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ وَزَادَ شَبَابَةُ روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانا مکروہ سمجھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ،مگر کمزوری کی وجہ سے۔اور شبابہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ (اسی سند سے ) اتنا بڑھایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔صلى الله کہ نبی علیہ کے زمانہ میں (ایسا کیا کرتے تھے۔) تشریح : الْحِجَامَةُ وَالْقَى لِلصَّائِمِ : اب مفطرات الصوم سے تعلق مسائل شروع ہوئے ہیں۔یعنی وہ باتیں جن سے روزہ دار بے روزہ ہو جاتا ہے۔یہ باب اس قسم کے مسائل کے بارہ میں قائم کیا گیا ہے۔فقہاء نے دس باتیں مفطر قرار دی ہیں جن میں سے بموجب تشریح قرآن حکیم تین باتوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے جو محرمات ہیں۔سب حسب ذیل ہیں: حلق سے یا بذریعہ حقہ کھانے پینے کی اشیاء کا داخل ہونا یا بذریعہ قے باہر نکلنا، خون کا نکلناقے سے یا کچھنے سے، حیض نفاس ، جنون اور ارتداد۔آخری چار صورتیں تو ظاہر ہیں۔پہلی دوصورتوں کے بارہ میں اختلاف ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں فقہاء کے مختلف فتووں کا ذکر کرنے کے بعد مستند احادیث پیش کی گئی ہیں اور الفاظ الاول الاصح سے بوضاحت رائے دی گئی ہے کہ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ جو شئے بطور دوا و غذا دی جائے گی، اس سے روزہ باطل ہوگا اور جو بطور دوا و غذا نہیں جائے گی وہ مفطرات میں شامل نہیں۔اسی طرح خون اور غذا کے جسم سے نکلنے میں بھی اختلاف ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی دو مختلف روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔پہلی روایت جو موقوف ہے اسے