صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 607
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۷ ٣٠ - كتاب الصوم لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ صدقہ میں دے دو۔ تو اُس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ (کیا) ایسے شخص کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو؟ بخدا ( مدینہ کے ) دونوں پتھر ملے کناروں کے درمیان کوئی گھر والا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ۔ میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج نہیں ۔ ( دونوں کناروں سے مراد مدینہ کے دونوں کنکر میلے میدان ہیں ) تو نبی علی ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہوئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو ہی کھلاؤ۔ اطرافه: ١٩٣٧، ٢٦٠٠ ، ٥٣٦٨، ٦٠٨٧، ٦١٦٤ ، ٦٧٠ ، ٦٧١٠، ٦٧١١، ٦٨٢١۔ تشريح : إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَيْءٌ : اس باب کی روایت میں جس کفارہ کاذکر کیا گیا ہے، وہ کفارہ ایلاء ہے جو سورۃ المجادلہ آیت ۴، ۵ میں مذکور ہے اور ایک غلام کی آزادی کا ذکر بطور کفارہ قتل خطاء سورہ نساء آیت ۹۳ میں وارد ہوا ہے۔ غلام آزاد کرنے کی نہ طاقت ہو تو دو ماہ کے روزے رکھنے کی تاکید ہے ۔ تَوْبَةٌ مِّنَ اللهِ یعنی یہ روزے بطور تو بہ اور تعزیری کارروائی کے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محولہ بالا ارشاد سے واضح ہے کہ فرض روزے میں عمداً ازدواجی تعلق پیدا کرنا بہت سنگین گناہ ہے جس کے لئے مذکورہ بالا کفارہ عدم استطاعت کی صورت میں ساقط تو ہو جاتا ہے مگر تو بہ واستغفار اس سے ساقط نہیں ہوتے ۔ الفاظ هَلَكْتُ یعنی میں ہلاک ہو گیا اور اپنے متعلق یہ اعلان کہ میں بہت ہی بد بخت انسان بد بخت انسان ہوں ؟ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کا اقرار کرنے والا سخت پشیمان ہے۔ اس کی اپنی حالت مضطر بانہ اور غایت درجہ افلاس کو دیکھ کر آپ نے اُسے اجازت دی کہ وہ صدقہ کی کھجوریں اپنے اہل و عیال کو کھلائے ۔ صدقہ کے مصرف سے متعلق فقہاء متفق ہیں کہ صدقہ دینے والا اپنی کفایت کے بعد ہی دے سکتا ہے۔ اس لئے عنوانِ باب میں فَلْيُكَفِّرُ کے الفاظ سے جملہ شرطیہ کا جواب واضح کیا گیا ہے اور اس سے سابقہ باب کے مضمون کی تائید ہوتی ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اس پشیمان شخص کی نفسی حالت ہی حقیقی تو بے تھی جو اصل مقصود بالذات ہے ۔