صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 45 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 45

صحيح البخاري - جلد ۳ لده ٢٤ - كتاب الزكاة نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ مَا أَخَذْتَ يَا مَعْنُ پاس یہ قضیہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا: یزید! تیرے لئے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی اور معن ! تیرے لئے ہے جو تو نے لے لیا۔ تشریح : إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ : باب ۱۵،۱۴ صدقہ اعلانیہ وصدقة السر میں فرق بتانے کی غرض سے قائم کئے گئے ہیں نیز فقہی اختلاف کا حل بھی ان میں مد نظر ہے۔ مگر جس آیت کریمہ کا - ا حواله باب ۱۲ ۱۳۰ میں دیا گیا ہے، اس کے آخری حصہ کی وضاحت بھی ضمنا مقصود ہے اور وہ حصہ آیت یہ ہے: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ ۔۔۔۔۔۔ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا (البقرة: ۲۷۵) یعنی صدقہ کے ستحق وہ محتاج نہیں جو لوگوں سے لپٹ کر مانگتے پھرتے ہیں۔ اس قسم کی دریوزہ گری اسلام میں سخت ممنوع ہے۔ ( باب ۵۰ تا ۵۳) بلکہ ایک امیر بھی محتاج ہو سکتا ہے۔ عزیز و اقارب میں سے ایک بیٹا بھی محتاج ہو سکتا ہے۔ ایک چور اور زانیہ کو بھی صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ تا وہ کسب حرام سے باز آئیں۔ پس محتاج کی تعریف کسی ایک قسم کے فرد یا طبقہ سے محدود کرنا مناسب نہیں ؛ جیسا کہ بعض فقہاء نے کیا ہے۔ مذکورہ بالا مثالیں حاجت روائی کے موقع محل کی موٹی مثالیں ہیں۔ جن کا تعلق عموماً صدقۃ السر کے مواقع سے ہے۔ افراد کو اپنے اردگرد کے حالات کا بہتر علم ہو سکتا ہے۔ اس لئے انہیں اجازت دی گئی ہے کہ وہ اموال باطنہ سے جو زکوۃ نکالیں، وہ براہ راست محتاجوں کی حاجت روائی میں خرچ کریں۔ اسلام نے اعلانیہ صدقہ کا بھی حکم دیا ہے جو بطور فرض واجب ہے اور ہر فرد صاحب نصاب پر عائد ہوتا ہے حتی کہ ایک یتیم نابالغ پر بھی اگر اس کا مال نصاب سے زیادہ ہو، تا ملک کے اجتماعی استحکام کا تحفظ ہو سکے اور پوشیدہ طوعی صدقہ کا بھی دروازہ کھلا رکھا ہے تا مختلف طبقات کے افراد کی حاجت روائی کی صورت قائم رہنے کے علاوہ افراد کا تزکیہ نفس بھی ہوتا ر ہے جو زکوۃ کی اغراض میں سے ایک اہم غرض ہے۔ انجیل نے یہودیوں کی ریا کاری کے علاج کی غرض سے انفاق کی صرف ایک ہی صورت پر زور دیا ہے۔ یعنی صدقة السر ( متی باب ۶ آیت ۵ تا ۱۱) مگر اسلام نے اپنی کامل تعلیم میں دونوں صورتیں ملحوظ رکھی ہیں۔ بَاب ١٦ : الصَّدَقَةُ بِالْيَمِينِ داہنے ہاتھ سے صدقہ دینا ١٤٢٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۴۲۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) یی يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي (بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ (عمری ) سے روایت کی۔ کہا: حبیب بن عبدالرحمن ابْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے حفص