صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 550
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۵۰ بَابِ ١٠: الْمَدِينَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ مدینہ ردی شئے کو نکال دیتا ہے ۲۹ - كتاب فضائل المدينة ۱۸۸۳ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسِ :۱۸۸۳: عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔سفیان ثوری) نے ہم سے عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بیان کیا۔انہوں نے محمد بن منکدر سے، ابن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى آپ سے بیعت کی۔دوسرے دن وہ آیا۔اسے بخار الْإِسْلَامِ فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُوْمًا فَقَالَ تھا تو کہنے لگا: مجھے بیعت سے آزاد کر دیں۔آپ نے أَقِلْنِي فَأَبَى ثَلَاثَ مِرَارٍ فَقَالَ الْمَدِينَةُ انکار کیا۔تین بارایسا ہی کہا۔پھر آپ نے فرمایا مدینہ كَالْكِيْرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا۔بھٹی کی طرح ہے جو اپنا میل کچیل نکال کر پھینک دیتی ہے۔اس کا خالص مال کندن ہو جاتا ہے۔اطرافه ،۷۲۰۹، ۷۲۱۱، ۷۲۱۶، ۷۳۲۲ عَبْدِ الله ١٨٨٤ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۱۸۸۴ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی بن ثابت سے، بْن يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ عدی نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی۔انہوں نے ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ لَمَّا خَرَجَ کہا: میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ سنا۔وہ کہتے تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کی رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ جنگ کے لئے نکلے تو آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ نَقْتُلُهُمْ وَقَالَتْ فِرْقَةٌ لَا نَقْتُلُهُمْ لوگ لوٹ گئے تو ایک فریق نے کہا: ہم انہیں قتل فَنَزَلَتْ : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ کر دیں گے اور ایک فریق نے کہا کہ ہم انہیں قتل نہیں فِئَتَيْنِ (النساء: ۸۹) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى کریں گے تو یہ آیت اتری۔یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے تم : :