صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 549 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 549

صحيح البخاري - جلد ٣ ۵۴۹ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشْكُوْنَ فِي الْأَمْرِ کے نہیں۔چنانچہ وہ اسے قتل کر دے گا۔پھر اس کو فَيَقُوْلُوْنَ لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِنِهِ فَيَقُولُ زندہ کرے گا تو وہ ( نیک شخص ) جب اسے دجال حِيْنَ يُحْيِيْهِ وَاللهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ زندہ کر دے گا، کہے گا: بخدا! میں کبھی ( تیرے متعلق) بَصِيْرَةً مِنِّي الْيَوْمَ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَقْتُلُه اس سے بڑھ کر علی بصیرت نہیں ہوا جتنا کہ آج۔تو و جال دل میں کہے گا: میں اسے مار ڈالوں مگر مجھے اس فَلَا أُسَلَّطُ عَلَيْهِ۔اطرافه: ۷۱۳۲۔پر قدرت نہیں ہوگی۔تشریح: لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ : مذکورہ بالا پیشگوئی کا تعلق ہمارے زمانہ سے ہے۔جس میں دجالی طاقتیں اپنے زوروں پر ہیں۔بیت اللہ، مدینہ منورہ اور بلاد عربیہ اس عظیم الشان فتنہ کے نرغے میں ہیں جس کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از وقت آگاہ فرمایا ہے اور آسمانی تدبیریں بھی درپردہ کارفرما ہیں اور مستقبل ہی بتائے گا کہ یہ پیشگوئی کس شکل میں پوری ہوگی۔اس سے قبل بھی فتنہ دجال کی بابت ایک پیشگوئی کا ذکر کتاب الاذان باب ۹۰ میں گذر چکا ہے، جہاں دانیال علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا حوالہ دیا گیا ہے جو آخری ایام میں مکروہ چیز نصب کئے جانے اور ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔(دانیال باب ۱۲) فتنہ دجال کا مفصل ذکر اپنے موقع پر کتاب الفتن میں آئے گا۔روایت نمبر ۱۸۸۲ میں یہ جو ذکر ہے کہ دجال ایک شخص کو مار کر دوبارہ اسے زندہ کرے گا اور اپنی غیر معمولی قدرت کا اظہار کرے گا۔لیکن مومن اپنے ایمان و یقین میں ترقی کریں گے اور اس کی کرشمہ نمائی کا اُن پر کوئی اثر نہ ہوگا۔فنونِ طب اور جراحی کے نئے تجربات میں عیسائی قوم کو غیر معمولی مہارت حاصل ہو چکی ہے۔جس سے ایسے اشخاص میں جو بظاہر مردہ معلوم ہوتے ہیں؛ زندگی کی رو بحال کر دی جاتی ہے۔ان تجربوں سے موت کی سابقہ تعریف بدل چکی ہے۔جسے کسی وقت مردہ سمجھا جاتا تھا، اس میں در حقیقت رمق حیات جسم کی گہرائیوں میں مخفی ہوتی ہے۔اس حالت کو کمون (پوشیدگی) کہتے ہیں۔جو حالت سکتہ وغیبوبت سے ماوراء حالت ہے۔ادویہ اور آلات کے ذریعہ ایسے مردوں میں زندگی کی رو دوبارہ چلا دی جاتی ہے۔غرض مقتول کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت پوری ہوگئی ہے اور اس کے ساتھ یہ خبر بھی پوری ہوگئی: فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ۔اس کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت ہے۔جو دجالی فتنہ انگیز کرشموں کو دیکھ کر کامل یقین رکھتے ہیں کہ عیسائی اقوام ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سابقہ انبیاء کی محولہ بالا پیشگوئیوں کی مصداق ہیں۔