صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 538 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 538

صحيح البخاری جلد۳ ۵۳۸ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى کے سوا کچھ نہیں ، جس میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوَى کہ مدینہ حرم ہے، عائر پہاڑ سے لے کر یہاں تک۔مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ جس نے اس حرم میں کوئی رخنہ پیدا کیا یا رخنہ پیدا کرنے وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْف والے کو پناہ دی؛ اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔اس کی نہ شفاعت قبول کی جائے گی وَلَا عَدْلٌ وَقَالَ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِيْنَ اور نہ فدیہ اور یہ بھی فرمایا: مسلمانوں کی ذمہ داری ایک وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ ہی ہے۔پس جس نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ لَا اور ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔اس سے نہ نقد معاوضہ قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيْهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی حرجانہ اور جس نے کسی قوم {وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ لَا سے عہدِ دوستی کیا؛ بغیر اپنے موالی ( یعنی ہم عبد لوگوں ) يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ کی اجازت کے تو اس پر بھی اللہ { اور فرشتوں } اور أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَدْلٌ فِدَاءٌ۔سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔اس کی نہ شفاعت قبول کی جائے گی نہ فدیہ۔ابو عبداللہ (امام بخاری) نے کہا: لفظ عدل سے مراد فد یہ ہے۔اطرافه: ۱۱۱، ۳۰٤٧، ۳۱۷۲، ۳۱۷۹، ۶۷۰۰، ۶۹۰۳، ۶۹۱۰، ۷۳۰۰ تشریح : حَرَمُ الْمَدِينَةِ : بیت اللہ اور اس کے حرم کی فضیلت اور آداب حرمت بیان کرنے کے بعد مدینہ کی فضیلت کے بارہ میں ابواب قائم کئے گئے ہیں۔اس تعلق میں پہلے باب کے تحت چار روایتیں درج ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۱۸۶۷) میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی بہستی اور اس کے مضافات کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو۔یہ اعلان مدینہ میں آنے کے بعد کیا گیا تھا اور مکہ والوں کو بھی اطلاع کی گئی۔اس سے یہ فائدہ ہوا کہ جس طرح قریش اپنے تئیں بوجہ حرم محفوظ سمجھتے تھے۔اسی طرح انصار و مہاجرین بھی اس اعلان کے ذریعہ سے سیاسی طور پر محفوظ ہو گئے۔اس اعلان کے بعد اگر مدینہ کی معینہ حدود کے اندر کسی قسم کی تعدی ہوئی تو اہل مدینہ کو حق ہو گا کہ اس تعدی کا ازالہ کریں۔چنانچہ قرآن مجید آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے سیاق میں فرماتا ہے: اَلشُّهُرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَتْ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُم فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا جو اس جگہ لفظ وَالْمَلَائِكَةِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۱۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔