صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 534 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 534

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۳۴ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد سَعِيْدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يزيد بن ابی حبیب نے ان کو بتایا۔ابوالخیر ( مرحد بن حَبِيْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عبداللہ ) نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عقبہ بن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ عامر سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: میری بہن نے تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَأَمَرَتْنِي أَنْ نذر مانی کہ وہ بیت اللہ کو پیدل جائے گی اور مجھ سے أَسْتَفْتِيَ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فرمائش کی کہ میں اس کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھوں۔میں نے آپ سے فتویٰ پوچھا تو وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پیدل بھی وَسَلَّمَ لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ۔قَالَ وَكَانَ چلے اور سوار بھی ہو۔اور ( یزید بن ابی حبیب نے ) کہا أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ۔کہ ابوالخیر حضرت عقبہ بن عامر) سے الگ نہ ہوتے۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ } حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ { * ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: } ابو عاصم نے عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے (عبدالملک) ابن جریج عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ سے، انہوں نے سجی بن ایوب (غافقی مصری ) سے، سی نے یزید بن ابی حبیب) سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبد اللہ ) سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر) سے روایت کی اور اسی حدیث کا ذکر کیا۔فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔تشريح مَنْ نَّذَرَ الْمَشْيَ إِلَى الْكَعْبَةِ : حج کی نذر پوری نہ کرنے کے مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ایک فریق کی یہ رائے ہے کہ نذرانہ پورا کرنے والے پر قربانی بطور کفارہ لازم ہے۔بلکہ بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر پیدل چلنے کی طاقت نہ ہو تو سواری ساتھ لے لے۔جب تھک جائے تو سوار ہو جائے اور قربانی بھی دے۔یہ کفارہ نذر توڑنے کا ہے جو در حقیقت قسم توڑنے کی مانند ہے اور بعض کے نزدیک قربانی کا کفارہ ایسے شخص پر نہیں بلکہ چاہیے کہ وہ حج کرے اور جتنا سفر سواری پر کیا تھا؟ اتنا چلے تا کہ اس کی نذر پوری ہو جائے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۲۵) روایت نمبر ۱۸۶۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نذریں پسند نہیں فرما ئیں۔نہ ایسی نذریں جو تکلیف مالا بطاق ہوں جائز ہیں؛ کیونکہ زمانہ جاہلیت کی یادگار ہیں۔ہندومت میں بھی جسم کو تکلیف اور مشقت میں ڈال کر سمجھا جاتا ہے کہ نفس اس سے پاک ہوگا۔عیسائیت کی رہبانیت بھی اسی شمار میں ہے۔روایت نمبر ۱۸۶۶ میں ایک عورت کے نذر مانے اور اس کو پورا کرنے کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا ذکر ہے۔شریعت اسلامیہ الفاظ ”قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۴۰ حاشیہ صفحہ ۱۰۲)