صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 529
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۹ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ١٨٥٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ :۱۸۵۸ عبدالرحمن بن یونس نے ہم سے بیان کیا يُونُسَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ که حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن مُحَمَّدِ بْنِ يُوْسُفَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یوسف سے، محمد بن یوسف نے سائب بن یزیڈ سے يَزِيدَ قَالَ حُجَّ بِي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ سَبْعَ سِنِيْنَ کے ساتھ مجھے حج کرایا گیا اور میں سات سال کا تھا۔١٨٥٩ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۱۸۵۹: عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ قاسم أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكِ عَنِ الْجُعَيْدِ بن مالک نے ہمیں خبر دی۔بعید بن عبدالرحمن سے ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ مروی ہے۔انہوں نے کہا: عمر بن عبد العزیز سے میں ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ نے سنا۔وہ حضرت سائب بن یزیڈ سے کہہ رہے تھے وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ اور حضرت سائب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بار برداری کے قافلہ میں حج کرایا گیا تھا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ٦٧١٢، ۷۳۳۰۔تشریح: حَجُ الصَّبْيَانِ : عنوان باب میں بچوں کے حج کا ذکر تو کیا گیا ہے مگر کسی رائے کا اظہار نہیں۔روایات زیر باب سے بچوں پر حج فرض ہونے کا استنباط نہیں ہوسکتا۔بچے اپنے اقرباء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شامل حج تھے۔در اصل امام موصوف کے مد نظر مسلم کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مقام روحاء پر ایک قافلہ ملا۔جس نے آپ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور ایک عورت نے بچہ اُٹھا کر آپ سے پوچھا کہ کیا اس پر حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔وَلَكِ أَجْرٌ اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔(مسلم، کتاب الحج، باب صفة حج الصبي) اس سے بعض فقہاء داؤ د ظاہری وغیرہ نے استدلال کیا ہے کہ جسے بچپن میں حج پر جانے کا موقع مل گیا ہوا اور بڑا ہو کر وہ حج نہ کر سکے تو وہی حج کافی ہوگا۔(عمدۃ القاری جزء ۰ ۱ صفحه ۲۱۶) مسلم کی روایت امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں۔اس بارہ میں جمہور فقہاء کا مذہب یہی ہے کہ بلوغت کے بعد حج فرض ہوتا ہے اور بچپن کا حج محض نفلی ہے۔(فتح الباری جز پہ صفہ ۹۲) باب زیر عنوان کی روایت ( نمبر ۱۸۵۹) میں ذکر نہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے حضرت سائٹ سے کیا بات کہی۔صرف اصل مسئلہ کا ذکر ہے۔یعنی یہ کہ حضرت سائب کو بھی بچپن میں حج کرنے کا موقع ملا جبکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بار برداری کے قافلہ میں تھے محولہ روایت کے باقی حصہ کے لیے دیکھئے کتاب کفارات الأيمان، روایت نمبر ۶۷۱۲۔اس میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں صاع کتنا ہوتا تھا۔کیونکہ ان کے زمانہ میں وزن زیادہ کر دیا گیا تھا۔