صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 501
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۱ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد مَسْعُوْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ۔عَبَّاسِ عَنِ سے، عبید اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے، الصَّعْبِ بْنِ جَنَّامَةَ اللَّيْنِي أَنَّهُ أَهْدَی انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ لیٹی سے روایت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گورخر بطور تحفہ بھیجا جبکہ آپ ابواء میں یا ودان میں حِمَارًا وَّحْشِيَّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ تھے تو آپ نے وہ انہیں لوٹا دیا۔جب انہوں نے بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھی تو آپ نے وَجْهِهِ قَالَ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا اطرافه: ٢٥٧٣، ٢٥٩٦۔تشریح: فرمایا: ہم نے تمہیں وہ واپس نہیں کیا مگر اس لئے کہ ہم محرم ہیں۔إِذَا أَهْدَى لِلْمُحْرِم حِمَارًا وَحُشِيَّا حَيًّا لَّمْ يَقْبَلُ : اس باب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ گورخر شکار کا جانور ہے۔اگر اسے محرم کی خاطر شکار کیا جائے تو وہ اسے قبول نہ کرے۔اس سے ممانعت شکار کی خلاف ورزی کا راستہ کھلتا ہے۔حضرت صعب بن جثامہ کا واقعہ حضرت ابو قتادہ کے واقعہ سے الگ ہے۔شارحین نے دونوں کے واقعات میں فرق نمایاں کیا ہے کہ اول الذکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر شکار کیا تھا۔جبکہ آپ بحالت احرام تھے اور ثانی الذکر نے اپنے لئے ، جبکہ وہ حالت احرام میں نہ تھے۔حضرت صعب کے واقعہ سے متعلق روایت میں بڑا اختلاف ہوا ہے کہ آیا انہوں نے گوشت پیش کیا تھا یا زندہ جانور۔امام بخاری کی تحقیق کی رو سے وہ زندہ جانور تھا۔مسلم کی روایت میں ہے کہ وہ گوشت تھا۔(مسلم، کتاب الحج، باب تحريم الصيد للمحرم) مذکورہ بالا واقعہ میں تقویٰ کی ایک اور مثال ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ ( یعنی انکار ) سے واضح ہے اور جمہور کے فتویٰ کی اسی پر بناء ہے کہ ایسا شکار جو محرم کے لئے کیا گیا ہو، وہ نہ کھائے۔لیکن اگر محرم کی خاطر نہیں ہوا تو اسے کھایا جا سکتا ہے۔آیا ابواء کی وادی تھی یا ودان کی؟ اس بارہ میں شک حضرت ابن عباس کو ہوا ہے۔انہیں یاد نہیں رہا۔ابواء نامی پہاڑ جعفہ سے تیس میل اور وڈان جعفہ سے آٹھ میل ہے۔(دیکھئے فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۴۳ ۴۴ ) بَاب : مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَاتِ محرم کو نسے جانور مارسکتا ہے؟ ١٨٢٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۸۲۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع