صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 499
حيح البخاري - جلد ٣ ٤٩٩ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد بَعْضُهُمْ لَا تَأْكُلُوا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ زخمی کر دیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا تو ان میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَمَامَنَا سے بعض نے کہا: کھاؤ بعض نے کہا: نہ کھاؤ۔میں نبی فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُلُوهُ حَلَالٌ قَالَ لَنَا کے پاس آیا اور آپ ہمارے آگے تھے۔میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسے کھاؤ۔وہ عَمْرُو اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوْهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا۔حلال ہے۔عمرو بن دینار ) نے ہم سے کہا صالح کے پاس جاؤ اور ان سے اس کی اور دوسری باتوں کی بابت پوچھو اور وہ ان دنوں ہمارے پاس آتے جاتے۔اطرافه ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ۱۸۲٤، ۲۵۷۰، ۲۸٥٤ ، ۲۹۱٤ ، ٤١٤۹، ٥٤٠٦، ٥٤٠٧، ٠٥٤٩٠ ٥٤٩١ ٥٤٩٢ بَاب ٥ : لَا يُشِيْرُ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ لِكَيْ يَصْطَادَهُ الْحَلَالُ محرم شکار کی طرف اشارہ نہ کرے کہ غیر محرم اس کا شکار کرے ١٨٢٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۱۸۲۴ موسی ابن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔عثمان جو موہب کے بیٹے ہیں ؟ عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبِ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد اللہ بن ابی قتادہ نے مجھے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ خبردی کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارادے سے نکلے۔لوگ بھی حَاجًا فَخَرَجُوْا مَعَهُ فَصَرَفَ آپ کے ساتھ نکلے تو آپ نے ان میں سے کچھ خَرَجَ لوگ ایک طرف بھیجے۔جن میں حضرت ابو قتادہ بھی تھے اور فرمایا کہ سمندر کے کنارے کا راستہ لو۔یہاں تک کہ ہم آپس میں مل جائیں تو انہوں نے سمندر کا فَأَخَذُوْا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوْا کناره اختیار کیا۔جب وہ لوٹے تو ان سب نے احرام أَحْرَمُوْا كُلُّهُمْ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِم باندھا نگر حضرت ابوقتادہ نے نہ باندھا۔اسی اثناء میں فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيْرُوْنَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ کہ وہ جارہے تھے۔انہوں نے کئی گورخر دیکھے تو طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ فِيْهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ