صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 487 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 487

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۷ بَاب : الْإِطْعَامُ فِي الْفِدْيَةِ نِصْفُ صَاعِ فدیہ میں نصف صاع کھانا کھلانا ٢٧- كتاب المحصر ١٨١٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۱۸۱۶ ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن بن اصبہانی سے، الْأَصْبَهَانِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن مَعْقِل قَالَ عبدالرحمن نے عبداللہ بن معقل سے روایت کی۔جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ انہوں نے کہا: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِدْيَةِ فَقَالَ نَزَلَتْ پاس میں بیٹھا اور فدیہ کی بابت ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت خاص طور پر میرے متعلق فِي خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً حُمِلْتُ نازل ہوئی اور تمہارے لئے عام ہے۔رسول اللہ ﷺ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس مجھے سوار کر کے لے گئے اور حالت یہ تھی کہ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ مَا جوئیں میرے منہ پر لگا تار جھڑ رہی تھیں تو آپ نے كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى أَوْ فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہاری بیماری اس حد تک مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى پہنچ چکی ہے؛ جو میں دیکھ رہا ہوں۔یا فرمایا: میں نہیں تَجِدُ شَاةً فَقُلْتُ لَا فَقَالَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ سمجھتا کہ تکلیف اس حد تک ہو چکی ہے ، جس میں میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔کیا بکری کی طاقت ہے؟ میں نے کہا نہیں۔تو آپ نے فرمایا: تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، ہر مسکین کو نصف صاع ( اناج )۔أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِيْنَ لِكُلِّ مِسْكِيْنِ نِصْفَ صَاعٍ اطرافه ۱۸۱٤، ۱۸۱۵، ۱۸۱۷، ۱۸۱۸، ٤۱۰۹، ۱۹۰، ١۹۱، ٤٥١٧، ٥٦٦٥، ٥، ٦٧٠٨۷۰۳ شریح : الْإِطْعَامُ فِى الْفِدْيَةِ - نِصْفُ صَاع: امام ابوحنیفہ کے نزدیک گندم نصف صاع اور کھجور صاع ہر مسکین کو دی جائے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۲۲) مذکورہ بالا حدیث سے ظاہر ہے کہ نصف صاع اناج خواہ بصورت گندم ہو یا کھجور ؛ ہرمسکین کو دیا جائے۔علامہ عینی کا خیال ہے کہ یہاں کسی اختلاف کا حل کرنا مقصود نہیں۔بلکہ صاع کی تمیز حذف ہونے کی صورت میں بالعموم غلہ ہی مراد ہوتا ہے؟ نہ کھجور۔(عمدۃ القاری جلد اصفحه ۱۵۵) جیسا کہ صحیح مسلم میں اس روایت کی لفظ طَعَامًا سے وضاحت کی گئی ہے، جو حضرت کعب بن عجرہ سے مروی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں: نِصْفَ صَاعِ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِين۔یعنی ہر مسکین میں نصف صاع غلہ۔(مسلم، کتاب الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا كان به اذى