صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 483
صحيح البخاری جلد۳ ۴۸ ٢٧- كتاب المحصر يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ۔وَقَالَ (وہی) ذبح کر دے؛ اگر وہ اسے (منی ) بھیج نہیں مَالِكَ وَغَيْرُهُ يَنْحَرُ هَدْيَهُ وَيَحْلِقُ فِى سکتا اور اگر اسے بھیجنے کی طاقت ہو تو اس وقت تک أَي مَوْضِعِ كَانَ وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ لِأَنَّ احرام سے آزاد نہ ہو ، جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پہنچ جائے اور مالک وغیرہ نے کہا ہے کہ اپنی قربانی ذبح کردے اور سرمنڈوائے ؛ جہاں بھی وہ ہو اور اس وَأَصْحَابَهُ بِالْحُدَيْبِيَّةِ نَحَرُوْا وَحَلَقَوْا پر قضا لازم نہیں۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ وَحَلُّوْا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ الطَّوَافِ کے صحابہ نے (مقام) حدیبیہ میں قربانی کی اور سر وَقَبْلَ أَنْ يُصِلَ الْهَدْيُ إِلَى الْبَيْتِ ثُمَّ منڈوایا اور احرام کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو گئے۔لَمْ يُذْكَرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طواف کرنے اور قربانی بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے۔أَمَرَ أَحَدًا أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا وَلَا يَعُودُوْا پھر ( کہیں ذکر نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو لَهُ وَالْحُدَيْبِيَةُ خَارِجٌ مِنَ الْحَرَمِ۔فرمایا ہو کہ وہ کس وقت قضا کرے یا اس وقت دہرائے؛ حالانکہ حدیبیہ حرم سے باہر ہے۔۱۸۱۳: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۱۸۱۳: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔نافع سے مروی ہے کہ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ حِيْنَ خَرَجَ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما جب فتنہ کے ایام میں إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ کو روانہ ہونے لگے تو انہوں عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ نے کہا: اگر بیت اللہ سے میں روک دیا گیا تو ہم ویسا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہی کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ علے کی فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی معیت میں کیا تھا۔پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ که نبی ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا الْحُدَيْنِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ تھا۔پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنی بات پر غور کیا تو فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ کہا: ان دونوں ( حج اور عمرہ) کی ایک ہی بات ہے تو فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا اپنے ساتھیوں سے متوجہ ہوئے اور کہا: ان دونوں کی