صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 481 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 481

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۱ ٢٧- كتاب المحصر روایت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ والی روک پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر کی جس روایت کا حوالہ دو مختلف سندوں سے دیا گیا ہے؛ اس میں فدیہ کا کوئی ذکر نہیں۔طواف بیت اللہ اور سعی صفا و مروہ کر کے احرام کھولنے کا ذکر ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں جملہ اسمیہ کی خبر محذوف ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ محصر کی بابت جو حکم ہے اس کا قیاس معذور کے حج و عمرہ پر نہیں کیا جا سکتا اور اگر ارکان میں سے کوئی رکن مثلا وقوف عرفات یار می وغیرہ نہ کر سکے تو ایسا معذور طواف وسعی پر اکتفا کر کے احرام کھول سکتا ہے اور وہ دوسرے سال فریضہ حج ادا کرے گا۔علامہ عینی کا خیال ہے کہ قیاس کی ضرورت نہیں دونوں صورتوں میں حکم الگ الگ ہے۔(عمدۃ القاری جلد، اصفحہ ۱۴۵) باب ٣ : النَّحْرُ قَبْلَ الْحَلْقِ فِي الْحَصْرِ احصار میں سرمنڈوانے سے پہلے قربانی کرنا ۱۸۱۱: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۱۸۱۱ محمود بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيَ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، انہوں أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت مسور ده سے روایت کی کہ رسول اللہ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے سرمنڈوانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کو اسی کا حکم دیا۔بذلك۔اطرافه: ١٦٩٤، ۲۷۱٢، ۲۷۳۱، ۱۹۸، 4178، 4181۔۱۸۱۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ :۱۸۱۲ محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ لرَّحِيْمِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ ابو بدر شجاع بن ولید نے ہمیں خبر دی۔عمر بن محمد عمری الْوَلِيدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِي سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا اور نافع نے بھی بیان قَالَ وَحَدَّثَ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللهِ وَسَالِمًا کیا کہ عبد اللہ اور سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اللہ عنہما سے بات کی (کہ اس سال حج نہ کریں) تو فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِيْنَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بحالت عمرہ نکلے تو کفار قریش بیت اللہ کے درمیان