صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 480 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 480

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۰ ۲۷ - كتاب المحصر بَاب ۲ : الْإِحْصَارُ فِي الْحَجِّ حج میں روکے جانا ۱۸۱۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۸۱۰: احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ( بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی ۔ (کہا: ) یونس نے الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ قَالَ كَانَ ہمیں خبر دی کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَلَيْسَ سالم نے مجھے خبر دی، کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله کہا کرتے تھے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ تمہارے لیے کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا روکا جائے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرلے۔ وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى پھر وہ ہر شئے سے آزاد ہو جائے ۔ یہاں تک کہ يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيُهْدِي أَوْ يَصُوْمُ إِنْ آئندہ سال حج کرلے اور قربانی دے یا روزہ رکھے لَّمْ يَجِدْ هَدْيًا۔ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا اگر قربانی کی طاقت نہ ہو۔ اور عبداللہ بن مبارک ) مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ سے مروی ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی کہ زہری سے عَنِ ابْنِ عُمَرَ ۔۔۔ نَحْوَهُ۔ روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ سالم نے حضرت ابن عمر سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ اطرافه : ١٦٣٩، ١٦٤٠ ، 1693، 1708 ، ۱۸06، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ صلى اللهم ۔ عليه تشريح : الْإِحْصَارُ فِي الْحَجَ: آنحضرت ﷺ کو عمرہ ادا کرنے میں روک پیدا ہوئی اور صارح (حج کی بندش ) کا قیاس اس عمرہ پر کیا گیا اور ارشاد باری تعالیٰ وَاَتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ۔۔۔۔۔ (البقرة ة : ۱۹۷) کا تعلق بھی آیت فَإِنْ أُحْصِرُ تُم (البقرة : ۱۹۷) سے ہے۔ یعنی حج وعمرہ سے اگر تم رو کے جاؤ تو وہ موقع ملنے پر پورے کئے جائیں گے اور یہ ارشاد نص صریح ہے۔ مگر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ جو کہنا پڑا کہ کیا اس بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے بجائے نص صریح کا حوالہ دینے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کر قول نقل کیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روکا جانا جنگی حالات کی وجہ سے تھا اور بمقام حرم پہنچ کر کسی عذر کی وجہ سے مناسک حج یا عمرہ نہ کر سکنے کی اور صورت ہے۔ مسئلہ دریافت کرنے والوں کے نزدیک اس دوسری