صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 477
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۷۷ ۲۷ - كتاب المحصر ۱۸۰۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۸۰۷: عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان ابْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَّافِعٍ أَنَّ عبید اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبد اللہ نے ان کو خبر دی۔ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ ان دونوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان اللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ایام میں بات کی جب لشکر نے (حضرت عبداللہ ) بن ان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَيَالِيَ نَزَلَ زبیر پر چڑھائی کی تھی ، ان دونوں نے (اپنے باپ سے ) الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا لَا يَضُرُّكَ أَنْ کہا: آپ کو اس سے کوئی نقصان نہیں کہ اس سال حج لَا تَحُجَّ الْعَامَ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ نہ کریں اور ہم ڈرتے ہیں کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان روک پیدا کر دی جائیگی۔ تو انہوں نے بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نکلے تو رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کفار قریش نے بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا۔ نبی فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کر دی اور اپنا سر منڈ والیا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ اور میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ اپنے پر وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ واجب کر لیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں چلا أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ جاؤں گا اور اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ روک ڈالی گئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے نبی علی وَإِنْ حِيْلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ نے کیا تھا اور میں اس وقت آپ کے ساتھ ہی تھا۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ذو الحلیفہ سے آپ نے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دیر چلے۔ پھر فرمایا: ( حج اور عمرہ) دونوں کی بات ایک سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ ہی ہے۔ میں ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہو کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے اور آپ ان دونوں أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ سے آزاد نہیں ہوئے یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا عُمْرَتِي فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى دَخَلَ اور حضرت عبداللہ بن عمر) قربانی لے گئے تھے۔