صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 472 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 472

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٦- كتاب العمرة بَاب ۱۸ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں اپنے دروازوں سے آؤ (البقرة : ۱۹۰) ۱۸۰۳ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۱۸۰۳: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔ابو اسحق سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔کہتے تھے: الْآيَةُ فِيْنَا كَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُوْا یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی تھی۔انصار جب حج فَجَاءُوْا لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ کے لئے نکلتے اور اسی دوران میں واپس آتے تو اپنے بُيُوتِهِمْ وَلَكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا فَجَاءَ گھروں کے دروازوں سے داخل نہ ہوتے۔بلکہ ان رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ کے پچھواڑے سے داخل ہوتے۔ایک انصاری آدمی فَكَأَنَّهُ عُيْرَ بِذَلِكَ فَنَزَلَتْ : وَلَيْسَ الْبِرُّ آیا تو وہ دروازے سے گھر میں داخل ہوا۔اسے اس بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا بات پر طعنہ دیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔یعنی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے آؤ۔اصل میں نیک وہ ہے جو گناہ سے بچے اور وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابَهَا۔(البقرة : ١٩٠) گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔اطرافه ٤٥١٢۔تشریح : وَأَتُوا الْبُيُوتَ مِنْ اَبْوَابِهَا : محولہ بالا آیت لَيْسَ البر (البقرة : ۱۹۰) حج اور اس کے مقاصد متعلقہ کی بابت نازل ہوئی کہ ظاہر پرستی اور دینی مسائل میں غلو اور موشگافی بے حقیقت باتیں ہیں۔اصل چیز تقوی، استقامت اور حقیقی قربانی ہے۔محولہ بالا آیت کے موقع نزول کی بابت کئی ایک کمزور روایتیں ہیں۔جنہیں امام بخاری نے قبول نہیں کیا۔ان کے نزدیک ایک ہی روایت یعنی نمبر ۱۸۰۳ مستند ہے۔جس انصاری کا یہاں ذکر ہے ان کا نام ابن خزیمہ اور حاکم کی روایتوں میں قطبہ بن عامر بتایا گیا ہے اور بعض نے رفاع بن تابوت۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۷۸۴، نیز عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۳۶۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں کے اس غلط عقیدہ کی اصلاح فرمائی کہ دروازے سے واپس آنا آداب حج کے خلاف ہے۔ہر مقصد کے حاصل کرنے کے لئے ایک صحیح اور سیدھا راستہ ہوتا ہے۔مقاصد کو اس کی صحیح راہوں سے ہی حاصل کرنا چاہیے۔ابواب حج وعمرہ کے اس عنوان سے بھی امام موصوف کی شریعت نہمی اور حسن انتخاب و ترتیب ظاہر ہے۔