صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 471
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۷۱ ٢٦ - كتاب العمرة باب ۱۷ : مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ جس نے اپنی اونٹنی تیز چلائی جب مدینہ میں پہنچے ۱۸۰۲: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي ۱۸۰۲ : سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: حمید أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ (طویل) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت انس اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کے فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْ ضَعَ نَاقَتَهُ بلند مقامات دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز چلاتے ۔ اگر کوئی وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةٌ حَرَّكَهَا ۔ اور سواری ہوتی تو اسے تیز کرتے۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ زَادَ الْحَارِثُ بْنُ ابو عبد اللہ نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا ۔ روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ مدینہ کی محبت کی وجہ سے آپ اسے دوڑاتے ۔ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل ( بن جعفر ) حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جُدُرَاتٍ تَابَعَهُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ۔ اطرافه: ١٨٨٦ ۔ انس سے روایت کی ۔ انہوں نے ( بجائے لفظ درجات کے ) جدرات بیان کیا؛ یعنی دیواریں۔ حارث بن عمیر نے بھی اسی طرح نقل کیا۔ تشريح : مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ: اس باب کا تعلق کی خاص۔ خاص مسئلہ سے نہیں۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرکات و سکنات سے متعلق وارد شدہ روایات کے الفاظ کا ضبط مقصود ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو مدینہ سے محبت تھی۔ کیونکہ اس میں انصار و مہاجرین کو ایک عظیم الشان خدمت ادا کرنے کی توفیق ملی اور حدیث ہے: حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ (المقاصد الحسنة، حرف الحاء المهملة، روایت نمبر ۳۸۶) یعنی شهر اور شہر والوں کی محبت بھی اوصاف حمیدہ میں ہے۔