صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 466
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۶۶ ٢٦- كتاب العمرة قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالِ كَاهْلَالِ النَّبِيِّ فرمایا: کس کا لبیک پکارا ہے ( حج کا یا عمرہ کا؟ ) میں نے صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ کہا: اس کا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ ہے۔آپ نے فرمایا: اچھا کیا ہے۔بیت اللہ اور صفاو أَحِلَّ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا مروہ کا طواف کریں۔پھر احرام کھول کر آزاد ہو جائیں۔چنانچہ میں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔پھر وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةٌ مِنْ قَيْسِ قبیلہ قیس کی ایک عورت کے پاس آیا۔اس نے میرے فَقَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِ رتی جوئیں نکالیں۔پھر میں نے حج کا لبیک پکار کر فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ احرام باندھا۔سو میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا۔یہاں عُمَرَ فَقَالَ إِنْ أَخَذْنَا بِكِتَابِ اللهِ فَإِنَّهُ تک کہ حضرت عمرؓ کی خلافت کا زمانہ ہوا تو انہوں نے يَأْمُرُنَا بِالسَّمَامِ وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ کہا: اگر ہم کتاب اللہ کے مطابق عمل کریں تو وہ ہمیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ (حج اور عمرہ) پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم نبی حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ۔کے فرمودہ پر عمل کریں تو آپ احرام کھول کر اس وقت تک حج کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوئے صل الله جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ گئی۔اطرافه ١٥٥٩، ١٥٦٥، ١٧٢٤، ٤٣٤٦، ٤٣٩٧۔١٧٩٦: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيْسَى :١٧٩٦ احمد بن عیسی نے ہم سے بیان کیا۔ابن حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو عَنْ وہب نے ہمیں بتایا کہ عمرو نے ہمیں خبر دی۔ابوالاسود أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ سے مروی ہے۔حضرت اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ غلام عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت اسماء أَسْمَاءَ تَقُوْلُ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُوْنِ جب کبھی مقام جون سے گذرتیں تو وہ ان کو یہ کہتے صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ سنا کرتے تھے صلی اللہ علی محمد۔ہم آپ کے ساتھ هَاهُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ قَلِيْلٌ یہاں اُترے تھے اور ہم ان دنوں ہلکے پھلکے تھے۔ظَهْرُنَا قَلِيْلَةٌ أَزْوَادُنَا فَاعْتَمَرْتُ أَنَا ہماری سواریاں کم تھیں اور زادراہ بھی کم تھی۔میں نے