صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 463 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 463

صحيح البخاری جلد ۳ سلام الله سلام ٢٦- كتاب العمرة الْإِسْلَامُ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله پس جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالیٰ علیہ وسلم سے اس بارہ میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِرِ اللهِ آیت نازل فرمائی: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ شَعَائِرِ اللهِ۔۔۔سفیان اور ابو معاویہ نے ہشام سے عَلَيْهِ أَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا (البقرة : ١٥٩) روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زَادَ سُفْيَانُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ شخص کا حج پورا نہ کیا، نہ اس کا عمرہ جس نے صفا اور مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ مروہ کے درمیان طواف نہ کیا۔لَمْ يَطْفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔اطرافه ١٦٤٣، ٤٤٩٥، ٤٨٦١ تشریح يَفْعَلُ بِالْعُمْرَةِ مَا يَفْعَلُ بِالْحَجِّ : اس تعلق میں دیکھنے کتاب الحج تشریح باب ۱۶٫۴ جہاں مناسک حج کا خلاصہ دیا گیا ہے اور کتاب الحج باب ۷۹ ۸۰ کی تشریح جہاں صفا و مروہ کے تعلق میں اس کا تاریخی پس منظر ظاہر کیا گیا ہے۔اس باب کی پہلی روایت میں اول ان باتوں کا ذکر ہے جو بوقت احرام نہیں ہونی چاہیں اور اس کے آخر میں ہے کہ عمرہ میں بھی رمی کرنی چاہیے جو حج میں کی جاتی ہے اور دوسری روایت میں صفا و مروہ کی سعی کا ذکر ہے اور اس کے آخر میں ہشام کی روایت کا حوالہ بسند سفیان اور ابو معاویہ مذکور ہے جو طبری اور عبدالرزاق نے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۶۷۶) اس حوالہ سے یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ صفا مروہ کی سعی بھی ارکان حج و عمرہ میں سے ہے اور یہ خیال درست نہیں کہ اگر سعی نہ کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔بَابِ ۱۱ : مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ عمرہ کرنے والا کب احرام کھولے وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اور عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوْهَا عُمْرَةً وَيَطُوْفُوْا حج کو عمرہ کریں اور طواف کریں۔پھر بال کٹوائیں اور ثُمَّ يُقَصِرُوْا وَيَحِلُّوْا۔احرام کھول کر آزاد ہو جائیں۔