صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 461 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 461

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۶۱ ٢٦ - كتاب العمرة طواف کیا جب آپ (مدینہ کی طرف) نکلے۔پھر آپ مدینہ کی طرف رُخ کر کے روانہ ہو گئے۔نیز کتاب الحج باب ۳۳ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: فَارْتَحَلَ النَّاسُ فَمَرَّ مُتَوَجِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ یعنی لوگ چل پڑے۔پھر آپ مدینہ کا رخ کئے ہوئے گزرے۔یہاں مڑ کا فاعل آنحضرت ﷺ ہیں۔( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۷۳ ) باب ۱۰ : يَفْعَلُ بِالْعُمْرَةِ مَا يَفْعَلُ بِالْحَجِّ عمرہ میں بھی وہی کرے جو حج میں کرتا ہے ۱۷۸۹: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۱۷۸۹ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاء قَالَ حَدَّثَنِي ہمیں بتایا کہ عطاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: صفوان صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ يَعْنِي عَنْ بن يعلى بن امیہ نے مجھے بتایا۔یعنی اپنے باپ سے أَبِيْهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ آیا جبکہ آپ جعرانہ میں تھے اور وہ جبہ پہنے تھا اور جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوْقِ أَوْ قَالَ صُفْرَةٌ اس پر خوشبو کا نشان تھا۔یا کہا: زردی کا نشان۔اس فَقَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي نے کہا کہ آپ مجھے اپنے عمرے میں کیا کرنے کا حکم عُمْرَتِي فَأَنْزَلَ الله عَلَى النَّبِيِّ صَلَّی دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُتِرَ بِقَوْبِ اور آپ کو ایک کپڑا اوڑھا دیا گیا۔مجھے آرزو تھی کہ وَوَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھوں کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ آپ پر وحی کا نزول ہو رہا ہو۔حضرت عمر نے (مجھ فَقَالَ عُمَرُ تَعَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى سے) کہا: ادھر آؤ۔کیا تم یہ دیکھ کر خوش ہو گے کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَنْزَلَ الله تعالى في صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کر رہا ہے؟ الله عَلَيْهِ الْوَحْيَ قُلْتُ نَعَمْ فَرَفَعَ میں نے کہا: ہاں۔پھر انہوں نے کپڑے کا کنارہ طَرَفَ التَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيْطٌ اُٹھایا تو میں نے آپ کو دیکھا۔آپ خراٹے لے وَأَحْسِبُهُ قَالَ كَغَطِيطِ الْبَكْرِ فَلَمَّا رہے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا: جیسے سُرِيَ عَنْهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ جوان اونٹ خراٹے لیتا ہے۔جب وحی کی حالت ختم