صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 458
صحيح البخاري - جلد۳ تشریح: ۴۵۸ ٢٦- كتاب العمرة اَجْرُ الْعُمْرَةِ عَلَى قَدْرِ النَّصَب : امام احمد بن حنبل اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہا نے روایت نمبر ۱۷۸۷ مذکورہ بالا دوسندوں سے نقل کی ہے۔اس میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بغیر نام کے اشارہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تعمیم سے عمرہ کرنے کے لئے فرمایا اور کہا کہ عمرہ کا اجر مشقت ہے پر ہے یا فرمایا کہ مصارف سفر کے مطابق۔امام بخاری کی مذکورہ بالا روایت میں حضرت عائشہ کے نام کی تصریح ہے۔نَفَقَتِكِ أَوْ نَصَبكِ : کرمانی کے نزدیک حدیث کے الفاظ میں اؤ کا عطف جو وارد ہوا ہے ؛ وہ تنویع کے معنوں میں ہے، شک کے معنی میں نہیں۔تنویع کے معنی ہیں نوعیت کا الگ الگ ہونا۔دار قطنی اور حاکم نے کی روایت جو ابن عون سے مروی ہے؛ اس میں یہ الفاظ ہیں: وَإِنَّ لَكِ مِنَ الآخرِ عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ وَنَفَقَتِكِ۔تمہیں اجر مشقت اور مصارف سفر کے مطابق ملے گا۔ان الفاظ سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ا۷۷) بعض فقہاء نے اس تعلق میں یہ سوال اُٹھایا ہے کہ ثواب عمل کی خاطر مشقت برداشت کرنا ضروری نہیں اور شریعت اسلامیہ نے مشقت جسمانی عبادت میں ثواب کے لئے ضروری قرار نہیں دی بلکہ وہ ایسا دین ہے جس میں سہولت ، آسانی ،شرح صدر اور اخلاص و غیرہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔دیکھئے کتاب الایمان باب ۱۲، ۱۸، ۳۲٬۲۹۔دراصل حضرت عائشہ عمرہ بر وقت نہ کر سکنے کی وجہ سے بہت متاثر تھیں۔آپ نے ان کی دلداری فرمائی کہ وہ اس کا افسوس نہ کریں۔ثواب کا دارو مدار صرف اس بات پر نہیں کہ عمرہ بروقت یا بر حل ہو؛ بلکہ عمرہ ہر وقت کیا جا سکتا ہے اور ثواب میں مشقت و مصارف سفر کا بھی لحاظ ہوتا ہے۔بعض فقہاء نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ جگہ یا وقت کی خصوصیت نہیں۔بعض اوقات یا بعض مقامات کے ساتھ ایک تاریخی پس منظر آیا ہے جو بوقت عبادت ذہنی تصورات اور قلبی احساس میں ایک غیر معمولی تحریک پیدا کر کے عبادت میں جان ڈال دیتے ہیں۔ذہنی کوفت جسمانی کوفت سے کم نہیں ہوتی اور لفظ النصب دونوں قسم کی کوفت پر اطلاق پاتا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۷ ۷۷۲ ) ( عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۲۴) مذکورہ بالا حدیث میں عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِک کے الفاظ ہیں۔مگر عنوانِ باب میں صرف عَلَى قَدْرِ النَّصَبِ ہے۔دراصل حضرت عائشہ کے لئے نفقات کا سوال نہ تھا۔اس لئے امام بخاری نے عنوان قائم کرتے ہوئے اسے نظر انداز کیا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جزء۶ صفحه ۴۳) (مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام وأنه يجوز إفراد الحج والتمتع (سنن الدار قطنی کتاب الحج، باب المواقيت روایت نمبر ۲۲۸، جز ۲ صفحه ۲۸۶) (المستدرك على الصحيحين كتاب المناسك الأجر على قدر النفقة و التعب، جزء اول صفحه ا۴۷)