صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 454 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 454

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۵۴ ٢٦- كتاب العمرة عَائِشَةَ وَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ۔قَالَ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیں اور تعیم سے ان کو سُفْيَانُ مَرَّةً سَمِعْتُ عَمْرًا كَمْ سَمِعْتُهُ عمرہ کرالائیں۔سفیان بن عیینہ ) نے کبھی یوں کہا: میں نے عمرو بن دینار ) سے سنا ( اور کبھی یوں کہا مِنْ عَمْرِو۔اطرافه ٢٩٨٥۔کہ ) میں نے عمرو بن دینار ) سے کئی بار یہ سنا۔١٧٨٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۷۸۵ محمد بن شنی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيْدِ بن عبد المجید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب معلم سے، عَنْ حَبِيْبِ الْمُعَلَّمَ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي حبیب نے عطاء ( بن ابی رباح) سے روایت کی کہ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ (انہوں نے کہا: ) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما الله نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ نے حج کا احرام باندھا اور سوائے نبی ﷺ اور حضرت وَأَصْحَابُهُ بِالْحَقِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ طلحہ کے اور کسی کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا اور مِّنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت علی یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قربانی وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ کا جانور تھا۔انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا صلى الله الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا ہے جو رسول اللہ ا نے باندھا ہے اور نبی عمر أَهَلَّ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے باقی صحابہ کو فرمایا کہ وہ اس (حج) کو عمرہ کر دیں۔وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بيت اللہ کا طواف کریں۔پھر بال کتر وائیں اور احرام وَسَلَّمَ أَذِنَ لِأَصْحَابِهِ أَنْ يُجْعَلُوْهَا کھول دیں سوائے اس شخص کے جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو۔تو لوگوں نے کہا : ( یہ کیسے ہوسکتا ہے ) عُمْرَةً يَطُوْفُوْا بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا کہ ہم منی کو جائیں ، جبکہ ہم میں سے کسی کے اعضاء وَيَحِلُّوْا إِلَّا مَنْ مَّعَهُ الْهَدْيُ فَقَالُوْا سے مادہ ٹپک رہا ہو۔یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ تَنْطَلِقُ إِلَى مِنِّى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ معلوم ہوئی تو قربانی کے جانور نہ لے جاتا اور اگر یہ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ بات نہ ہوتی کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو