صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 454
صحيح البخاری جلد ۳ لد ولد ٢٦ - كتاب العمرة عَائِشَةَ وَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ۔ قَالَ (اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیں اور تعلیم سے ان کو سُفْيَانُ مَرَّةً سَمِعْتُ عَمْرًا كَمْ سَمِعْتُهُ عمرہ کرالائیں۔ سفیان بن عیینہ ) نے کبھی یوں کہا: مِنْ عَمْرِو ۔ اطرافه: ٢٩٨٥۔ میں نے عمرو بن دینار ) سے سنا ( اور کبھی یوں کہا کہ ) میں نے عمرو ( بن دینار ) سے کئی بار یہ سنا۔ ١٧٨٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۷۸۵ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ بن عبد المجید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب معلم سے، عَنْ حَبِيْبِ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي حبيب نے عطاء بن ابی رباح) سے روایت ) روایت کی کہ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ (انہوں نے کہا: ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ صلى الله عروسة نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی علیہ اور آپ کے صحابہ صلى الله۔ رة نے حج کا احرام باندھا اور سوائے نبی علیہ اور حضرت وَأَصْحَابُهُ بِالْحَقِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ طلحہ کے اور کسی کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا اور مِنْهُمْ هَذِي غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت علی یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قربانی وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ کا جانور تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا صلى الله عروسة الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے اور نبی صلی اللہ أَهَلَّ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے باقی صحابہ کو فر مایا کہ وہ اس (حج) کو عمرہ کر دیں۔ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بيت اللہ کا طواف کریں ۔ پھر بال کروائیں اور احرام وَسَلَّمَ أَذِنَ لِأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا کھول دیں سوائے اس دیں سوائے اس شخص کے جو اپنے ساتھ قربانی عُمْرَةً يَطُوْفُوْا بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا کا جانور لایا ہو۔ تو لوگوں نے کہا: ( یہ کیسے ہو سکتا ہے ) کہ ہم منی کو جائیں؛ جبکہ ہم میں سے کسی کے اعضاء وَيَحِلُّوْا إِلَّا مَنْ مَّعَهُ الْهَدْيُ فَقَالُوْا سے مادہ ٹپک رہا ہو۔ یہ بات نبی اللہ کو پہنچی تو آپ نَنْطَلِقُ إِلَى مِنِّى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ نےفرمایا: اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ معلوم ہوئی تو قربانی کے جانور نہ لے جاتا اور اگر یہ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ بات نہ ہوتی کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو