صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 453
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۵۳ ٢٦ - كتاب العمرة أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَمِنَّا لے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور نہ لیا ہوتا تو میں بھی سے مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَج عمرے ہی کا احرام باندھتا ۔ کہتی تھیں کہ ہم : کہ ہم میں ۔ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَظَلَّنِي بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا اور يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ إِلَى میں ان لوگوں میں سے تھی: اسے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ عرفات کا دن ایسے وقت میں آیا کہ میں النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الله حائضہ تھی۔ میں نے نبی ﷺ سے اپنی معذوری ظاہر ارْفُضِيْ عُمْرَتَكِ وَالْقُضِيْ رَأْسَكِ کی تو آپ نے فرمایا : عمرہ چھوڑ دیں اورا۔ دیں اور اپنے سر کے وَامْتَشِطِيْ وَأَهِلَّيْ بِالْحَجِّ فَلَمَّا بال کھول ڈالیں اونگه ڈالیں اور گھی کریں۔ (معذوری دور ہونے پر ) كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي حج کا احرام باندھیں ۔ (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ) اور عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ (حج کے بعد ) جس رات ہم محصب پہنچے تو آپ نے عبدالرحمن کو میرے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ پھر میں بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي۔ نے (وہاں سے ) عمرے کا احرام باندھا؟ اپنے اس عمرہ کی جگہ ( جس کا احرام میں نے کھول دیا تھا۔ ) اطرافه: ٢٩٤ ، ٣٠٥، ۳۱٦ ، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، ،١٧٥٧، ١٧٦٢ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ، ۱١٥٦١، ١٥٦٢ ، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۶ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ٤٤٠٨، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧، ٧٢٢٩۔ بَاب ٦ : عُمْرَةُ التَّنْعِيمِ تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنا ١٧٨٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۷۸۴: علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ عَمْرَو سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار ) ابْنَ أَوْسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرو بن اوس سے سنا۔ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ وی که بی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ کو