صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 446
صحيح البخاری جلد۳ ۴۱۴۶ ٢٦- كتاب العمرة اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجَّ فَقَالَ رضی اللہ عنہما سے حج سے قبل عمرہ کرنے کے بارے لَا بَأْسَ قَالَ عِكْرِمَةُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی قباحت نہیں۔عکرمہ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا کہ حضرت ابن عمر نے بتایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ۔وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا تھا۔ابراہیم بن سعد نے ( محمد ) بن اسحاق سے نقل کیا : عکرمہ بن خالد نے عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ۔۔۔مِثْلَهُ۔مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر سے میں نے پوچھا۔۔۔۔ویسا ہی بیان کیا۔حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ حَدَّثَنَا أَبُو عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عاصم نے ہمیں عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عِكْرِمَةُ بتایا۔ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہ عکرمہ بن خالد نے ابْنُ خَالِدٍ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ الله کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا انہوں نے بھی یہی روایت بیان کی۔عَنْهُمَا۔۔۔مِثْلَهُ۔یخ: : مَنِ اعْتَمَرَ قَبْلَ الْحَجِّ : ارشادِ باری تعالى وَاتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ (البقرة : ۱۹) کے تشریح: پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس کی تعمیل میں تقدیم و تاخیر جائز ہے یا نہیں اور آیا اس تعمیل میں فاصلہ ہو یا نہ ہو۔عمرہ پہلے کیا جائے اور حج بعد میں۔یا یہ کہ صرف حج ہو اور چند مہینوں کے بعد عمرہ؟ زیر باب پہلی روایت جو ابن جریج سے مروی ہے؛ وہ مرسل ہے۔کیونکہ ابن جریج اس زمانہ میں نہیں تھے، جب مکر مہ مخزومی نے حضرت ابن عمر سے سوال کیا۔اس نقص کا تدارک امام موصوف نے ابراہیم بن سعد کی روایت کے حوالہ سے کیا ہے، جو امام احمد بن حنبل نے نقل کی ہے۔(مسند احمد بن حنبل، جزء ۲ صفحہ ۱۵۸) اگلے باب کی روایتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور حج آخر میں کیا اور ان کے درمیان فاصلہ تھا۔یعنی نہ ترتیب ضروری ہے نہ تسلسل عمرے کے تعلق میں یہ ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ یہ بھی ابراہیمی سنت ہے۔جس کے لئے آپ نے اپنی بیوی بچے کو بیت اللہ کے لئے وقف کیا اور گاہے گا ہے خود بھی اس کی زیارت کی۔تا بیت اللہ ہمیشہ ذکر الہی سے معمور رہے اور اہل عرب نے قدیم سے یہ ابراہیمی سنت محفوظ رکھی ہے۔جس کا پستہ زمانہ جاہلیت کے اشعار سے چلتا ہے۔حلف الفضول کا واقعہ تاریخ عرب میں مشہور ہے۔قبیلہ بنی زبیر کا ایک شخص عمرے کی غرض سے مکہ مکرمہ میں آیا۔جس کے ساتھ کچھ سامان تجارت بھی تھا۔عاص بن وائل نے اس سے بعض اشیاء خریدیں؛ مگر قیمت نہ دی۔اس سے مایوس ہو کر زبیری نے قریش کے بعض قبیلوں سے فریاد کی اور آل فہر کو مخاطب کرتے