صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 447
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٦- كتاب العمرة ہوئے ان کی غیرت کو یہ کہہ کر اُکسایا کہ عمرہ کی غرض سے مکہ کے حرم میں آنے والے پر ظلم کیا گیا ہے۔اس کا تدارک ضروری ہے۔یہ اشعار اس کی طرف منسوب ہیں :- يَا آلَ فَهُرٍ لِمَظْلُومٍ بِضَاعَتَهُ بِبَطْنِ مَكَّةَ نَانِي الدَّارِ وَالتَّفَر وَمُحْرِمٍ شَعْتْ لَمْ يَقْضِ عُمْرَتَهُ يَا آلَ غَالِبِ بَيْنَ الْحِجْرِ وَالْحَجَر أَ قَائِمٌ فِي بَنِي سَهُم بِذِمَّتِهِمْ اَمُ ذَاهِبٌ فِي ضَلَالٍ مَالُ مُعْتَمِرُ (اخبار) مكة، ذكر حلف الفضول وسببه وتفسيره و تفسیره، جزء ۵ صفحه ۱۹۰) (التذكرة الحمدونية، الباب الثاني عشر ما جاء في العدل والجور) ترجمہ: اے فہر کی اولاد! اس شخص کی مددکو پہنچو جس کے سامان تجارت میں ظلم کیا گیا ہے اور اس کا حق مارا گیا ہے۔مکہ کی وادی میں ایسی حالت میں جبکہ وہ اپنے گھر اور اپنے لوگوں سے دور ہے۔احرام باندھے ہوئے ہے، غبار آلودہ ہے۔ابھی تک اس نے اپنا عمرہ ادا نہیں کیا۔اے آل غالب! حجر اور حجر کے درمیان بنی سہم میں سے کوئی ہے جو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے ولا ہو یا عمرہ کرنے والے کا مال اسی طرح ضائع چلا جائے گا۔اس قسم کے اشعار جاہلیت سے ظاہر ہے کہ عمرہ قدیم ایام سے کیا جاتا ہے۔لیکن حج کے ایام میں نہیں۔بلکہ عمو مار جب کے مہینہ میں۔جس کی وجہ سے یہ مہینہ بھی ماہ حرام یعنی عزت کا مہینہ قرار دیا گیا تھا۔تا بلاخوف و خطر دور ونزدیک سے آنے والے ابراہیمی سنت پر عمل کر سکیں۔حج کے ایام میں عمرہ کرنا ان کے نزدیک بہت بڑا گنا تھا۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۵۶۴) اسی غلط خیال کی اصلاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔بَابِ ٣ : كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ١٧٧٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۱۷۷۵ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اور عروہ بن زبیر عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مسجد میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَإِذَا نَاسٌ عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما حجرہ عائشہ کے قریب بیٹھے يُصَلُّوْنَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَى ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں اشراق کی نماز پڑھ رہے قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ فَقَالَ بِدْعَةٌ ہیں۔مجاہد نے کہا کہ ہم نے ان کی اس نماز کی بابت