صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 444
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۴۴ ليم العالي -٢٦ - كِتَابُ الْعُمْرَةِ مممممممم بَاب : وُجُوبُ الْعُمْرَةِ وَفَضْلُهَا عمرے کا وجوب اور اس کی فضیلت و ٢٦ - كتاب العمرة وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَيْسَ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہر شخص پر صرف أَحَدٌ إِلَّا وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ وَقَالَ ایک حج اور ایک عمرہ ہی واجب ہے اور حضرت ابن ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِنَّهَا عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ کی کتاب میں یہ لَقَرِيْنَتُهَا فِي كِتَابِ اللهِ : وَأَتِتُوا الْحَجَّ (عمرہ حج کے ) ساتھ ہی مذکور ہے۔(فرمایا ) اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔لنگ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ۔(البقرة : ١٩٧) ۱۷۷۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۷۷۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيْ مَوْلَى کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے سمی سے جو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي ابو بكر بن عبد الرحمن کے آزاد کردہ غلام تھے۔انہوں صَالِحِ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ نے ابوصالح سمان سے، سمان نے حضرت ابو ہریرہ الله عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے، ان لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ کوتاہیوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہوگئی ہوں اور جَزَاءً إِلَّا الْجَنَّةُ مقبول حج کا بدلہ جنت ہی ہے۔تشریح : وُجُوبُ الْعُمْرَةِ وَفَضْلُهَا: عمر مشتق ہے عمارہ سے لینی آباد رھنا۔(عمدة القاری جز ۱۰ صفحہ ۱۰۶) اس غرض سے کہ بیت اللہ میں عبادت، ذکر الہی اور دعائیں ہوتی رہیں ، شریعت نے عمرے کا حکم یہ عنوان باب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفہ ۷۵۳)