صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 436 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 436

صحيح البخاری جلد ۳ سم ٢٥ - كتاب الحج بَاب ١٤٧ : الْمُحَصَّبُ محصب ١٧٦٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۷۶۵: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ ہمیں بتایا ۔ انہوں نے ہشام ( بن عروہ) سے، ہشام رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّمَا كَانَ مَنْزِل نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ يَنْزِلُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو لِيَكُوْنَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ يَعْنِنی صرف ایک منزل تھی، جہاں بی صلی اللہ علیہ وسلم اترا کرتے تھے؛ یعنی ابطح میں۔ تا وہاں سے کوچ کرنا بِالْأَبْطَحِ ۔ آپ کے لئے آسان ہو۔ ١٧٦٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۷۶۶ : علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو عَنْ عَطَاءٍ سفیان نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن دینار ) نے عطاء عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ (بن ابی رباح ) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ محقب لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ میں اُترنا کوئی خاص بات نہیں۔ (یعنی عبادہ ) وہ تو الله نَزَلَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک منزل تھی ، جہاں رسول الله الا اتر علیہ اترے۔ تشریح : المُحَصَّبُ : بعض فقہاء نے محقب میں اُتر نا مناسک حج میں شار کیا ہے جودرست نہیں۔ چنانچہ نام احمد بن حنبل نے بسند ابن ابی ملیکہ حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے : قَالَتْ وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجَلِي۔ ا (مسند احمد بن حنبل ما جزء جزء ۶ صفحه یعنی ۲۴۵) انہوں نے کہا: کہا: اللہ اللہ کی کی قسم قسم ! ! آپ آپ تو وہاں صرف میری خاطر اُترے تھے۔ اس م مفہوم کی روایتیں امام مسلم، ابوداؤد وغیرہ نے نقل کی ہیں یہ حضرت ابن عمر نے یہاں جو قیام کیا ، وہ صرف اتباع نبوی کے شوق سے۔ جیسا کہ مدینہ سے مکہ مکرمہ کو آتے وقت ذی طوی میں اور مکہ سے واپسی پر ذی الحلیفہ وغیرہ میں بھی وہ اس لئے اُترے کہ وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُترے تھے۔ اس طرف توجہ دلانے کے لئے اگلے دو ابواب (نمبر ۱۴۸ و ۱۴۹) قائم کئے گئے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر کا فعل ذاتی شوق سے تھا۔ ورنہ ان مقامات میں نزول مناسک حج میں سے نہیں۔ گو ان کے علاوہ بعض اور صحابہ اور خلفاء نے اپنی محبت و عشق کا اس طریق سے اظہار کیا ہے اور ان مقامات کو بطور منزل اختیار کیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۷۴۶ ) (مسلم، کتاب الحج، باب استحباب النزول بالمحصب) (ابوداؤد، كتاب المناسک، باب التحصيب)