صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 435
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۳۵ ٢٥-كتاب الحج رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی آپ مجھے ایک ایسی بات بتا ئیں جو آپ نے سمجھ کر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ في صلى اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہو۔آٹھویں تاریخ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنِّي قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى حج کو آپ نے ظہر کی نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منی میں۔میں نے کہا: کوچ کے دن عصر کی نماز آپ الْعَصْرَ يَوْمَ الْنَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ افْعَلْ نے کہاں پڑھی؟ کہا: ابطح میں۔آپ ویسا ہی کریں كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ۔اطرافه: ١٦٥٣، ١٦٥٤۔جیسا کہ آپ کے امیر کرتے ہیں۔١٧٦٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ :۱۷۶۴: عبد المتعال بن طالب نے ہم سے بیان کیا طالب حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي که ابن وہب نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن حارث نے عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ مجھے خبر دی۔قتادہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا کہ آپ نے ظہر و عصر و مغرب اور عشاء کی أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ نمازیں ( کوچ کے دن) محصب میں پڑھیں اور تھوڑا وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ ساموئے۔پھر آپ سوار ہوکر بیت اللہ کی طرف گئے رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ۔اور اس کا طواف کیا۔اطرافه: ١٧٥٦۔تشریح: مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْاَبْطَح و وادی جو مکہ مکرمہ اور منی کے درمیان ہے، اسے ابطح اور بطحاء کہتے ہیں۔بوجہ وسعت اور پھیلاؤ کے اور اس کا نام محصب اور معرس بھی ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۷۴۵ ) محصب بوجہ کنکریلے میدان اور معرس تعریں سے ہے۔یعنی وہ مقام جہاں آرام کر کے کوچ کیا جائے۔(لسان العرب - حصب ، عرس ) باب ۸۳ میں یہی روایت نمبر ۱۷۶۳ منقول ہے مگر علیحدہ سند سے۔عنوانِ باب میں عصر کی اس لئے تخصیص کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال کے بعد جمرات پر رمی کر کے منی سے کوچ کیا تھا اور محصب میں عصر کے وقت پہنچے تھے اور وہاں نماز ظہر وعصر جمع کی تھیں۔اور نماز مغرب وعشاء بھی یہیں پڑھیں اور پھر آرام فرما کر مکہ کی طرف طواف وداع کے لئے کوچ کیا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۴۵) یوم النفر کے معنی کوچ کا دن ؛ جو تیرھویں ذوالحج کو ہوا۔(اس تعلق میں ملاحظہ ہو باب ۱۳۴ نیز باب ۱۴۷)