صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 406 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 406

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۰۶ ٢٥ - كتاب الحج باب ۱۳۰ إِذَا رَمَى بَعْدَ مَا أَمْسَى أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا شام ہو چکنے کے بعد جب کوئی رمی کرے یا ذبح کرنے سے پہلے سر منڈالے، بھول کر یا نا واقعی سے ١٧٣٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۷۳۴: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وہیب نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ ) بن طاؤس نے ہم طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس رضی الـ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذبح کرنے ، سر منڈانے ، رمی اور قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ ان میں سے کسی بات کو آگے پیچھے کرنے کے بارے وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ لَا حَرَجَ۔ میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اطرافه: ۸۴، ۱۷۲۱، ۱۷۲۲، ۱۷۲۳، 1735، 6666 ١٧٣٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۷۳۵: علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بن زریع نے ہمیں بتایا۔ خالد نے ہم سے بیان کیا۔ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی علی وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنَى فَيَقُولُ سے قربانی کے دن منی میں مسلے پوچھے جاتے تو آپ صلى الله فرماتے: کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے آپ لَا حَرَجَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ سے دریافت کیا۔ کہا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے أَنْ أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحُ وَلَا حَرَجَ وَقَالَ سرمنڈا لیا ہے۔ فرمایا: ذبح کرلے کوئی حرج نہیں اور رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ لَا حَرَجَ۔ انہوں نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے رمی کی۔ تو آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اطرافه: ٨٤، ۱۷۲۱، ۱۷۲۲ ، ۱۷۲۳ ، 1734، ٦٦٦٦۔ تشريح : إِذَا رَمَى بَعْدَ مَا أَمْسَى نَاسِيًا أَوْ جَاهِلا: مناسک حج میں سے کوئی عمل آگے پیچھے ہو جائے ، بھول کر یا نا واقفیت سے تو فقہاء نے ایسی کوتاہی پر سوال اُٹھایا ہے کہ آیا کوئی کفارہ یا فدیہ دینا