صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 405 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 405

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۰۵ ٢٥ - كتاب الحج عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَفَاضَتْ روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ) حضرت صفیہ نے صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ۔ قربانی کے دن طواف زیارت کر لیا تھا۔ اطرافه: ٢٩٤ ، ٣٠٥، ٣١٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، ،١٧٥٧، ١٧٦٢، ١٧٧١ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ٤٤٠٨، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩، ٦١٥، ٧٢٢٩۔ تشريح : الزِّيَارَةُ يَوْمَ النَّحْرِ : دس ذواج کو قربان کا پہلا ہے۔ بیت اللہ کاطواف کیا جاتا ہے، ہے طواف الزیارت کہتے ہیں۔ اس کا نام طواف افاضہ اور طواف الصدر اور طواف الرکن بھی ہے۔ افاضہ اور صدر کے الفاظ ہم معنی ہیں۔ یعنی نکلنا یا لوٹنا۔ عنوان باب باب میں ابوالز بیر ر اور اور حضرت ابن عباس کا جو حوالہ دیا گیا ہے؟ اس سے متعلق ابوداؤد سے ترندی ہے اور امام احمد بن حنبل سے نے روایتیں نقل کی ہیں۔ یہ روایات حضرت حضرت ابن عمرؓ اور حضرت جابرے کی حضرت جابر کی روایتوں کے خلاف ہیں ؟؟ جن سے صراحت ہوتی ہے کہ قربانی کے روز دن کے وقت طواف کیا گیا۔ تیسرا حوالہ ابوحسان مسلم بن عبدالله عدوانی کا ہے جو طبرانی شے میں منقول ہے۔ امام بخاری اس طرف اشارہ کر کے بتانا چاہتے ہیں کہ طواف خواہ رات کو ہو، خواہ دن کو ؛ شرط یہی ہے کہ قربانی کے روز ہی کیا جائے۔ روایت نمبر ۱۷۳۳ سے بھی یہی ثابت کرنا مقصود ہے ۔ حضرت صفیہ سے متعلق اہل بیت اور حضرت عائشہ کا بیان کہ أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو علم تھا کہ قربانی کے دن یہ طواف افاضہ یا زیارت کیا جاتا تھا۔ اس روایت کے آخر میں قاسم کی روایت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ابوسلمہ راوی اس میں منفر د نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷ اے ) اس تعلق میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ طواف زیارت امام مالک کے نزدیک واجب نہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۷۰ ) (ابوداؤد، کتاب المناسک، باب الإفاضة في الحج (ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في طواف الزيارة بالليل) صلى الله (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم، مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحہ ۲۸۸) (مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي ) ه (المعجم الكبير للطبراني، ما أسند عبد الله بن عباس، روایت نمبر ۱۲۹۰۴ جزء ۱۲۰ صفحه ۲۰۵)