صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 398 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 398

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۹۸ ٢٥ - كتاب الحج تشریح : الذَّبْحُ قَبْلَ الْخَلْقِ : اس باب میں ارمستند روایتیں اور پر حوالہ جات قل کئے گئے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہ مناسک حج میں سے بعض احکام کی تعمیل بلحاظ ترتیب آگے پیچھے ہو گئی ہے اور بعض میں فروگذاشت ہوگئی ہے اور حجۃ الوداع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریاد سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لا حرج - کوئی حرج نہیں۔ جو بات رہ گئی ہے وہ اب کر لی جائے ۔ آیت محولہ زیر باب ۱۲۳ میں جو ترتیب مذکورہ ہے، اس میں ارشاد بارى تعالى ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَقَهُمُ (الحج: ۳۰) قربانی کے بعد قابل تعمیل - ہے۔ اس ارشاد کو مد نظر رکھ کر باب کا عنوان الذبح قَبْلَ الْحَلْقِ قائم کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جن روایات میں لا حَرَج کا ارشاد مروی ہے، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ترتیب مذکورہ عمد اترک کی جائے۔ قربانی کے تین دنوں کو ایام التشریق کہتے ہیں اور ان ایام میں چار کام کرنے پڑتے ہیں۔ رمی ، قربانی، حلق یا قصر (سرمنڈوانا یا بال کتروانا ) اور بیت اللہ کا طواف جو طواف زیارت کے نام سے موسوم ہے۔ یہ کام اگر آگے پیچھے ہو جائیں تو جمہور کے نزدیک کوئی حرج نہیں، مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک سنت نبویہ میں ترتیب ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور اگر نہیں رکھی گئی تو کفارہ لازم آتا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۵۹) اس قسم کے اختلافات کے پیش نظر جو باب قائم کیا گیا ہے؟ اس سے امام بخاری امام ابو حنیفہ کی رائے کے مؤید معلوم ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنے نقطہ نظر کی تائید میں چار حوالے نقل کئے ہیں۔ پہلا حوالہ ) پہلا حوالہ (یعنی وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ عَنِ ابْنِ خُلِيمٍ ) طبرانی کا ہے جس میں طُفْتُ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ کے الفاظ ہیں۔ یعنی میں نے رمی سے قبل طواف کیا ہے۔ یہ حوالہ روایت نمبر ۱۷۲۲ کے مطابق ہے۔ دوسرا حوالہ (یعنی وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَ ) ہے۔ ہے۔ تیسرا حوالہ (یعنی وَقَالَ عَفَّانُ ) مسند احمد بن حمد بن حنبل کے کا ہے جس سے ظاہر ہے کہ کئی اشخاص نے سوالات کئے ۔ ایک نے کہا : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ اَذْبَحَ ۔ اور دوسرے نے کہا: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِي ۔ یہ تینوں حوالے حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہیں۔ چوتھا حوالہ (یعنی وَقَالَ حَمَّاد ۔۔۔۔۔ حضرت جابز کی ایک روایت کا ہے۔ سند کی کچھ تبدیلی کے ساتھ یہ روایت ابن ماجہ کے نے بھی نقل کی ہے۔ اس میں بھی متعد د اشخاص کے سوال کرنے کا ذکر ہے۔ ایک نے ذبح کرنے سے قبل حلق کیا اور دوسرے نے رمی سے پہلے ذبح ذبح کر لیا اور آپ نے سب کو یہی جواب دیا کہ لا خرج مذکورہ بالا تین حوالوں کے بعد دو روایتیں بھی نقل کی گئی ہیں۔ ایک حضرت ابن عباس اور دوسری حضرت ابو موسیٰ اشعری کی ۔ جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ کتاب اللہ اور سنت الرسول کے مطابق عمل کر نا زیادہ مناسب ہے۔ (اس تعلق میں دیکھئے باب (۱۰۴) مذکورہ بالا حوالوں سے مسئلہ معنونہ کی پوری وضاحت ہوتی ہے۔ (المعجم الكبير للطبراني، ما أسند عبد الله بن عباس، جزءا | صفحہ ۱۷۸، روایت نمبر ۱۱۴۱۷) (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم، مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحه ۲۹۱) (ابن ماجه، کتاب المناسک، باب من قدم نسکا قبل نسک