صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 57 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 57

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۷ ٢٤ - كتاب الزكاة الرَّحِيمِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ عبد الرحیم نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے حجاج بن محمد ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سے حجاج نے ابن جریج سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: مُلَيْكَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ابن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عباد بن أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے (سن کر ) اُن سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ تُوْعِي فَيُوْعِيَ اللهُ عَلَيْكِ ارْضَخِي مَا آپ نے فرمایا: تھیلیوں میں بند کر کے نہ رکھ چھوڑ۔ اسْتَطَعْتِ۔ اطرافه: ١٤٣٣، ٢٥٩٠، ٢٥٩١۔ ورنہ اللہ بھی تجھ سے بند رکھے گا۔ جو بھی مقدور ہو کچھ نہ کچھ دیتی رہو۔ تشریح : الصَّدَقَةُ فِيمَا اسْتَطَاعَ : صدقے میں قلت و نے میں قلت و کثرت کا خ رت کا خیال نہ کیا جائے جتنی بھی توفیق ہوا دے دینا چاہیے۔ ورنہ نیکی کرنے کی جو توفیق اب حاصل ہے، اس سے محروم ہو جانے کا احتمال ہے۔ بعض لوگ اس خیال سے محروم رہ جاتے ہیں کہ تھوڑا کیا دینا ہے۔ اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( مذکورہ باب ۱۰) دیکھئے۔ استطاعت و قدرت کا مفہوم حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔ دیکھئے تشریح باب ۱۸، ۳۰ ۔ جہاں عام حالات کے پیش نظر آپ نے یہی پسند فرمایا کہ اپنی ضرورتیں بھی مد نظر رکھی جائیں اور غرباء کی ضرورتیں بھی۔ زکوۃ وصدقہ کا قانون عام حالات سے متعلق ہے۔ مگر خاص حالات میں اسلام کا قانون یہ ہے کہ نفس اور مال و منال کی کسی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: 1) اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس وعدے پر لئے ہیں کہ انہیں اس قربانی کے بدلے میں جنت ملے گی اور صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور اعلیٰ سے اعلیٰ قربانی کا نمونہ دکھایا۔ پس جس طرح عام حالات میں صدقہ و زکوۃ واجب العمل ارکان میں سے ہیں اسی طرح خاص حالات خطرہ میں یہ خاص حکم بھی واجب العمل ہے۔ آج فتنہ دجال کی وجہ سے موت و زندگی کا جو خطرہ عالم اسلامی کو لاحق ہے اس کا تقاضا ہے کہ استثنائی قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔