صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 399
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۹۹ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ١٢٦ : مَنْ لَّبَّدَ رَأْسَهُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ وَ حَلَقَ احرام باندھتے وقت جس نے اپنے سر کے بال جمالیے اور احرام کھولتے وقت سرمنڈ وایا ١٧٢٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۷۲۵ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ مالک نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهَا حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے حضرت حفصہ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! لوگوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ اور آپ نے اپنے عمرہ کا ابھی احرام نہیں کھولا ؟ تو آپ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي نے فرمایا: میں نے اپنے سرکے بال جھالتے تھےاور قربانی وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ۔ کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈال دیا تھا تو میں اس اطرافه: ١٥٦٦، ١٦٩٧، 4398، 5916۔ وقت تک احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ ذبح نہ کرلوں ۔ مع تشريح : مَنْ لَّبَدَ رَأْسَهُ عِندَ الْإِحْرَام تلی کے منی با گون وغیرہ سے جانا تا گردوغبار محفوظ رہیں۔ اس سے بال نہیں بکھرتے اور نہ جوئیں پڑتی ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۶۱ ) قران کی صورت میں قربانی سے فارغ ہونے پر بال منڈوائے اور ناخن تراشے جاتے ہیں ۔ عمرہ کا احرام کھولنا یہ حلق ( بال منڈوانا ) اور تعلیم ( ناخن کٹوانا ) اُن کے لئے ہے جو قربانی نہ لائے ہوں ۔ ( دیکھئے باب نمبر ۳۴) تنبید کے متعلق آئمہ نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس میں حلق ہے یا قصر ۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلق ضروری ہے۔ بموجب آیت مُحَلِّقِينَ رُؤُوسَكُمْ (الفتح: (۲۸) جمہور کے نزدیک ضروری نہیں۔ اسی اختلاف کا حل مد نظر ہے۔ حلق اور قصر دونوں کئے جا سکتے ہیں۔ باب ۱۲۷ : الْحَلْقُ وَالتَّقْصِيرُ عِنْدَ الْإِحْلَالِ احرام کھولتے وقت سر منڈوانا اور بال کتروانا ١٧٢٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۷۲۶ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ نَافِعٌ كَانَ بن ابی حمزہ نے ہمیں خبر دی۔ نافع نے کہا: حضرت