صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 771
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۷۱ ٢٣ - كتاب الجنائز حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) عبداللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ( بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوبکر سُفْيَانَ السَّمَّارِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ بن عياش نے ہمیں بتایا کہ سفیان ( بن دینار ) تمار کھجور فروش) سے مروی ہے۔ سفیان نے ان سے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر دیکھی کہ وہ اونٹ کے کوہان کی طرح اونچی بنی ہوئی تھی ۔ حَدَّثَنَا فَرْوَةً حَدَّثَنَا عَلِيٌّ فروہ ( بن ابی مغراء) نے ہم سے بیان کیا ، (کہا :) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ لَمَّا سَقَطَ علی بن مسہر ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نے ہشام عَلَيْهِمُ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ که ولید بن عبدالملک کے عہد حکومت میں جب لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوْا وَظَنُّوْا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ حضرت عائشہ کے حجرہ کی دیوار لوگوں پر گری تو وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدُوا بنانے لگے۔ اسی اثناء میں ان کو ایک پاؤں دکھائی دیا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ تو وہ گھبرا گئے اور خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لَا وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پاؤں ہے تو انہوں نے کسی کو بھی نہ پایا جاسکو پہنچانتا ہو، یہاں تک کہ عروہ بن زبیر ) نے کہا: ہر گز نہیں ۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللہ کی قسم ! یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں نہیں، یہ اللَّهُ عَنْهُ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے۔ ۱۳۹۱ : وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ ۱۳۹۱ نیز نیز ہشام سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَوْصَتْ باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا سے روایت کی ۔ حضرت عائشہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر تَدْفِنِّي مَعَهُمْ وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي رضی اللہ عنہما کو وصیت کی تھی کہ مجھے ان کے ساتھ دفن نہ بِالْبَقِيعِ لَا أُزَكَّى بِهِ أَبَدًا اطرافه: ۷۳۲۷۔ کرنا اور بقیع میں میری ہم نشینوں کے ساتھ دفن کرنا تا اس ( حجرہ) میں دفن ہونے کی وجہ سے میری تعریف نہ ہو۔