صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 770
صحيح البخاری جلد ۲ ٧٧٠ ٢٣ - كتاب الجنائز لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا میں ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانے سے ) تکلیف غَدًا اسْتِبْطَاءً لِيَوْمٍ عَائِشَةَ فَلَمَّا كَانَ ہوا کرتی تھی ۔ (آپ فرماتے: ) میں آج کہاں ہوں گا ؟ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي کل کہاں ہوں گا؟ حضرت عائشہ کی باری دیر کے بعد وَدُفِنَ فِي بَيْتِي آتے ہوئے دیکھ کر فرماتے جب میری باری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے گلے اور میرے سینے کے درمیان اُٹھایا اور آپ میرے گھر میں دفن ہوئے۔ اطرافه: ۸۹۰، ۳۱۰۰، ۳۷۷۴ ، ٤٤٣٨ ، ٤٤٤٦ ، ٤٤٤٩ ، ٤٤٥٠، ٤٤٥١، ٥٢١٧، 6510۔ ۱۳۹۰: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۳۹۰: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالٍ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال ( بن حمید ) عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سے، ہلال نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : رسول اللہ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا آپ اُٹھ نہیں سکے، فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں اور قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ لَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ عیسائیوں کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ انہوں نے قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَوْ خُشِيَ أَنْ اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ اگر آپ یہ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَعَنْ هِلَالٍ قَالَ كَنَّانِي نہ فرماتے تو آپ کی قبر کھلی رکھی جاتی ، مگر آپ ڈرے عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُولَدْ لِي۔ یا کہا: لوگوں کو ڈر ہوا کہ کہیں وہ مسجد (یعنی سجدہ گاہ) نہ بنائی جائے اور ہلال سے روایت کرتے ہوئے راوی نے کہا: عروہ بن زبیر نے میری کنیت رکھ دی ، حالانکہ میری کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی۔ اطرافه: ٤٣٥ ، ١٣٣٠، ٣٤٥٣، ٤٤٤١ ، ٤٤٤٣، ٥٨١٥