صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 677 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 677

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۷۷ ٢٣ - كتاب الجنائز فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ لَمْ تَفْعَلْ مَا آیا۔ کہنے لگا اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ! انہوں نے ہمیں بے بس أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر دیا ہے ۔ حضرت عائشہ کا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: (اگر وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نہیں رکھتیں) تو ان کے منہ پر خاک ڈ پہ خاک ڈالو۔ میں نے اس سے وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ۔ اطرافه: ١٣٠٥، ٤٢٦٣۔ کہا: اللہ تمہاری ناک خاک آلودہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا تھا۔ تم نے وہ بھی نہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف دینے سے باز نہ آئے۔ ۱۳۰۰ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۱۳۰۰: عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ (کہا:) محمد بن فضیل نے ہم سے بیان کیا۔ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ (انہوں نے کہا: ) عاصم احول نے ہمیں بتایا۔ حضرت قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: شَهْرًا حِيْنَ قُتِلَ الْقُرَّاءُ فَمَا رَأَيْتُ جب قاری (لوگ) شہید کئے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر کھڑے ہو کر عاجزی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنَ حُزْنًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ۔ سے دعا کی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی اس سے بڑھ کر غم کیا ہو۔ اطرافه: ۱۰۰۱، ۱۰۰۲، ۱۰۰۳، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴ ، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ٤ ، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٧٣٤١۰۹٤، ٤۰۹۲ ،۴۰۹۰ ، ٤٠٨٩ تشريح : مَنْ جَلَسَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ: غمناک بر کا صدمہ بعض وقت ایسا سخت ہوتا ہے کہ انسان کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے جلیل القدر صحابیوں کی شہادت سے متعلق اچانک خبر سن کر سخت صدمہ ہوا۔ آپ بیٹھ گئے ۔ جذبات غم واندوہ کو اندر ہی دبائے رکھا۔ یہ صبر کا اعلیٰ نمونہ ہے جو حد اعتدال پر واقعہ ہے۔ غم کے مارے نہ اتنا بے قرار ہو کہ آپے سے باہر ہو کر پیٹنا شروع کر دے اور نہ دل کو پتھر بنائے کہ احساس ہی باقی نہ رہے۔ غم کا زیادہ سے زیادہ اظہار جو آپ نے کیا ہے، وہ دعاؤں کے ذریعے کیا ہے۔ (روایت نمبر ۱۳۰۰) آپ کو ان کی شہادت کا واقعہ قبل از وقت کشفا یا بذریعہ رو یا معلوم ہوا تھا اور تصدیق بعد میں ہوئی تھی ۔