صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 51 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 51

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱ ١٠ - كتاب الأذان اللهِ وَقَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ سے دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں مرنے والا وَالصَّفِ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ اور فرمایا: اگر لوگ جانتے کہ اذان میں اور پہلی صف يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ۔ اطرافه ۷۲۰، ۲۸۲۹، ۵۷۳۳ میں کیا ثواب ہے اور پھر اس کے لئے قرعہ ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ پاتے، تو اس کے لئے ضرور قرعہ ڈالتے ۔ ٦٥٤ : و وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي التَّهْجِيْرِ ۶۵۴ اور اگر وہ جانتے کہ ظہر کی نماز کے لئے لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي اول وقت جانے میں کیا ثواب ہے تو وہ اس کے لئے الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْرًا ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور صبح کی نماز میں کیا ثواب ہے تو وہ ان میں اطرافه ٦١٥، ٧٢١، ٢٦٨٩۔ آتے ، اگر چہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔ تشریح : فَضْلُ التَّهْجِيرِ : اس باب میں بھی سابقہ مضمون اس باب میں بھی سابقہ مضمون پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہاں تین باتیں جمع کی گئی ہیں ؛ جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں ۔ کانٹوں کے اٹھانے سے مغفرت سے مغفرت کا حاصل کرنا ۔ شہادت کی موتیں اور اذان دینے اور پہلی صف میں شامل ہونے کا ثواب ۔ علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ روایتیں قتیبہ نے امام مالک سے اسی طرح اکٹھی روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے یہ تصرف نہیں کیا۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۸۱) لیکن امام موصوف نے اس مجموعہ سے عین محل و موقع پر فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا جاذب ہوتا ہے۔ بلکہ بعد رحمت -- بلکہ بعض حالات میں عمر حالات میں عمل نہ بھی ہو صرف نیت ہو اور ناگہانی موت اس نیک نیت کو حیر عمل میں لانے کا موقع نہ دے۔ تب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کے شامل حال ہو جاتی ہے اور اس کو شہادت کا وہ درجہ دے دیتی ہے۔ جو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ چنانچہ حدیث میں جن چار موتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں انسان ناگہانی صدمہ سے مر جاتا ہے۔ طاعون، ہیضہ، ڈوبنے اور مکان گرنے سے آدمی کو بہت کم مہلت ملتی ہے کہ وہ اپنے نیک ارادوں کو عملی صورت دے سکے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس کی اس بے بسی کا اپنی رحمت سے تدارک کرتا اور اس کو ان لوگوں میں شمار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ہوں ۔ مذکورہ بالا موتوں سے مرنے والے وہ مومن مراد ہیں جن کو اپنے نیک ارادوں کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نہیں ملی۔ اب اس روایت کے آخری حصہ کا تعلق اور عنوان باب کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ ( مزید تشریح کے لئے دیکھئے روایت ۷۲۱ )