صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 569 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 569

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۶۹ ۲۰ - كتاب فضل الصلاة فَوَجُهُ الْمَدِينَةِ صَارَ مِنْهُ مُنَوَّرًا وَبَارَكَ حُبًّا الرَّمْلِ وَطُئًا وَقَرُدَدًا حَفَافَى جَنَانِي نُورًا مِنْ ضِيَاءِ هِ فَأَصْبَحْتُ ذَا فَهُم سَلِيمٍ وَذَا الْهُدَى كرامات الصادقين "القصيدة الثالثة، صفحه ۵- روحانی خزائن جلدی صفحه ۹۲) اب تک یثرب کی پتھریلی زمین میں انوار موجود ہیں۔ جن میں ہم ہر روز ایک نئی شان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کیونکہ مدینہ کا چہرہ آپ کے وجود سے منور ہو گیا اور آپ نے وہاں کی ریتلی اور پتھریلی زمین کو برکت دی۔ آپ کے نور سے میرے دل کے پہلو پر نور ہو گئے۔ جس سے مجھے فہم سلیم اور راہنمائی حاصل ہوئی۔ وہ شخص جو ارشاد نبوی کے ماتحت ان مساجد میں جا کر نماز پڑھے گا۔ ضرور ہے کہ اس کی نماز بھی پر کیف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو ہزار نمازوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ باجماعت نماز کوا کیلے کی نماز پر ستائیس گنا زیادہ جو فضیلت ہے، اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ باجماعت نماز ادا کرنے میں خشوع خضوع پیدا ہونے کا زیادہ موقع ہوتا ہے۔ پس اصل اہمیت تو ان معنوی کیفیات ۔ کیفیات کے ساتھ ہے جو دل میں ان مقدس جگہوں کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ ایک منافق ریا کار بھی اگر وہاں نماز پڑھ لے تو اس کو بھی ہزار نمازوں کا ثواب ملے گا۔ روایت نمبر ۱۱۸۹ میں مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس کا بھی ذکر ہے۔ مگر عنوان باب میں اسے چھوڑ دیا ہے۔ امام بخاری نے ترتیب میں تاری اریخی یا ضمنی تقدیم و تاخیر ملحوظ نہیں رکھی ی ۔ ۔ بلکہ بلکہ اسلامی اسلامی نقطہ نقط هنا نظر کو مد نظر رکھ کر پہلے ان مساجد کا ذکر کیا اہے ہے جن کا تعلق تعہ بر اور است اسلام سے ہے اور جن کو تمام مساجد پر اس لئے فوقیت ہے کہ یہ مسجد میں عمارت توحید کی تکمیل کے لئے وہ کونے کا پتھر ہیں جس پتھر کو معماروں نے رد کیا ۔ وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا ۔ ( متی باب ۲۱ آیت ۴۲) بَاب ۲ : مَسْجِدُ قُبَاءٍ مسجد قباء ۱۱۹۱ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۱۱۹۱: يعقوب بن ابران ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعِ (انہوں نے کہا: اسماعیل ) بن علیہ نے ہم سے بیان کیا۔ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ لَا (انہوں نے کہا:) ایوب نے ہمیں بتایا۔ نافع سے يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلَّا فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صرف دو دن يَقْدَمُ مَكَّةَ فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى ہی چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک تو جس دن فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مکہ میں آتے ۔ کیونکہ وہ چاشت کے وقت مکہ میں خَلْفَ الْمَقَامِ وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ آتے تھے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرتے اور پھر