صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 568
صحيح البخاري جلد ٢ OYA ۲۰ - كتاب فضل الصلاة ۱۱۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۱۱۹۰ عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زید بن وَعُبَيْدِ اللهِ بْن أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِ عَنْ رباح اور عبید اللہ بن ابی عبداللہ اغر سے، انہوں نے أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابو عبد الله ( سلمان ) اغر سے، ابوعبداللہ نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز ان ہزار خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيْمَا سِوَاهُ إِنَّا نمازوں سے بہتر ہے جو اور جگہ پڑھی جائیں۔الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ سوائے مسجد حرام کے۔تشريح : فَضْلُ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ: امام بخاری نے ابواب التطوع کے ساتھ ہی مذکورہ بالا مساجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایات شامل کی ہیں۔جس سے غالباً یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ان مساجد کی زیارت کرنا بھی تطوع کی قسم سے ہے۔لَا تَشُدُّ الرِّحَالَ إِلَّا لِثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ حصر بعض وقت ایک چیز کی عظمت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔یہاں بھی یہی مراد ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ دیگر مقامات مقدسہ اور آثار قیمہ نہ دیکھے جائیں۔بلکہ یہ مقصود ہے کہ ایسا سفر جس میں عبادت کا رنگ ہو۔صرف ان تین مقامات کے لئے ہی مخصوص ہے۔مذکورہ بالا مقامات شعائر اللہ میں سے ہیں۔جو ابدی شاہد ہیں، اس بات پر کہ توحید انسان کا قبلہ آمال ہے اور یہ کہ انبیاء نے بنی نوع انسان کا غیر اللہ کی طرف سے منہ پھیر نے اور ان کو ایک نقطہ وحدت پر جمع کرنے کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔انبیاء کی اس مقدس جدو جہد کی تاریخ محفوظ رکھنے اور ان کے نصب العین کو مسلمانوں کے ذہن میں تازہ کرنے کی غرض سے شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان مسجدوں کی زیارت کیا کریں اور وہاں جا کر سر بسجود ہوں اور گواہ ٹھہریں کہ انبیاء کا مقصد اعلیٰ دنیا سے مٹنے والا نہیں۔بلکہ اسلام کے ذریعہ سے کمال کو پہنچے گا۔مسجد حرام تو حید کا پہلا گھر ہے۔جس کی بنیاد میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعہ سے دوبارہ اٹھائی گئیں اور مسجد نبوی مدینہ کی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے رکھی گئی اور جس کے ساتھ انبیاء کے مقصد کی تکمیل وابستہ ہے۔یہ طبعی امر ہے کہ انسان کی معنویات اپنے محیط کی نوعیت و کیفیت سے متاثر ہوتی ہیں۔نِعْمَ مَا قِيلَ۔إِلَى الْآنِ أَنْوَارٌ بِبُرْقَةِ يَقُرِبَ نُشَاهِدُ فِيْهَا كُلَّ يَوْمٍ تَجَدُّدَا