صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 556
صحيح البخاري - جلد ۲ ۵۵۶ ١٩ - كتاب التهجد إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔وہ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْح مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى کہتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ گھر میں آئے اور آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُوْدَ۔پڑھیں۔میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کبھی نہیں دیکھی مگر آپ پوری طرح رکوع اور سجدہ کرتے تھے۔اطرافه ۱۱۰۳، ٤۲۹۲۔تشريح : صَلوةُ الضُّحى فِي السَّفَرِ : روایت نمبر ۱۷۲ میں طلوع فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کا حوالہ گذر چکا ہے۔امام بخاری یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سفر میں آپ نے چاشت کے نفل نہیں پڑھے۔سوائے فتح مکہ کے دن۔( نمبر ۱۱۷۶،۱۱۰۳) روایت نمبر ۱۱۷۵ میں بھی حضرت ابن عمر سے منقول ہے کہ آپ چاشت کی نماز نہ پڑھتے تھے۔علاوہ ازیں حضرت ابو ہریرہ کا قول بطور حوالہ روایت نمبر ۱۶۷ء میں ابھی گذر چکا ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو چاشت کے وقت دور کعتیں پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔حضرت ابو ہریرہ کی یہی روایت باب نمبر ۳۳ میں بھی درج کی گئی ہے، جس کا عنوان صَلوةُ الضُّحَى فِی الْحَضَرِ ہے۔مگر یہاں صَلوةُ الضُّحَى فِي السَّفَرِ ہے۔محولہ بالا روایتوں کے پیش نظر مختلف عنوان قائم کر کے امام موصوف نے ان کے مابین جو اختلاف نظر آتا ہے اسے دور کیا ہے۔یعنی یہ کہ جہاں چاشت نہ پڑھنے کا ذکر ہے وہ بحالت سفر ہے اور جہاں پڑھنے کا ذکر ہے وہ بحالت حضر ہے۔باب ۳۲ : مَنْ لَّمْ يُصَلِّ الضُّحَى وَرَآهُ وَاسِعًا جو چاشت کی نماز نہ پڑھے اور اس میں وسعت سمجھے ۱۱۷۷: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۷۷ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا نے زہری سے، زہری نے عروہ سے ، عروہ نے قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے چاشت کی نماز پڑھی ہو وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا۔اطرافه ۱۱۲۸ اور میں تو اسے پڑھتی ہوں۔